BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 January, 2008, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی کے بعد ممبئی میں شناختی کارڈ

فائل فوٹو
ممبئی شہر میں کام کرنے والوں کی بڑی تعداد باہر کے لوگوں کی ہے
ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں شناختی کارڈ لازم قرار دیے جانے کا معاملہ سرد مہری کا اختیار کرگیا ہے لیکن ممبئی میں شناختی کارڈ بنانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

کئی سیاسی جماعتوں نے ممبئی کے لوگوں کے لیے شناختی کارڈ لازم قرار دیے جانے کی حمایت کی ہے۔

ریاست کے وزیراعلی ولاس راؤ دیشمکھ نے دہشت گرد تنظیموں سے سیکوریٹی کے خدشات کے پیش نظر اس نظریۂ کی حمایت کی ہے۔ جبکہ شیوسینا نے شناختی کارڈ بنانے کے لیے اسے مراٹھیوں کے حقوق کا تحفظ بتایا ہے۔

شیوسینا ہمیشہ سے شمالی ریاستوں اترپردیش، بہار اور کولکتہ سے ممبئی آنے والے لوگوں کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ پارٹی ان لوگوں کو مہاراشٹر کے باہر کے شہری کا نام دیتی ہے۔

ادھو ٹھاکرے نے اپنی پارٹی کے ترجمان اخبار سامنا میں ممبئی شہریوں کے لیے شناختی کارڈ بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح وہ اب’ باہری لوگوں‘ کے مزید داخلے کو روکنے میں کامیاب ہوسکے گی۔

 دیگر ریاستوں سے یا خود مہاراشٹر کے دوسرے ضلعوں سے شہر میں آنے والوں کے لیے حکومت کو پرمٹ کارڈ بنانے کی ضرورت ہے اور شہریوں کو شناختی کارڈ دیے جا سکتے ہیں۔
اجول نکم، سرکاری وکیل
ٹھاکرے نے سخت لفظوں میں کہا ہے کہ وہ ممبئی کوغیر قانونی طور پر آنے والوں کی آماجگاہ بننے نہیں دیں گے۔اس سے پہلے شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے نے بھی شناختی کارڈ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

ٹھاکرے کا موقف ہے کہ سرکاری نوکریوں میں مراٹھی لوگوں کو زیادہ جگہ دی جانی چاہیے۔ بقول ان کے باہر سے آنے والوں کی وجہ سے شہر کی زمینیں تنگ ہوتی جارہی ہیں، جھگی جھوپڑیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسی وجہ سے بنیادی سہولیات کا فقدان جھیلنا پڑ رہا ہے، اس لیے ایسے لوگوں کو روکنے کے لیے شناختی کارڈ بنانا ضروری ہے۔

شیوسینا کی اس مہم کا مراٹھیوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ سرکاری وکیل اجول نکم کہتے ہیں: ’دیگر ریاستوں سے یا خود مہاراشٹر کے دوسرے ضلعوں سے شہر میں آنے والوں کے لیے حکومت کو پرمٹ کارڈ بنانے کی ضرورت ہے اور شہریوں کو شناختی کارڈ دیے جا سکتے ہیں۔‘

لیکن نکم خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایک مشکل کام ہے اور گزشتہ چند برسوں تک تو شاید ناممکن بھی ہے کیونکہ سب کو شناختی کارڈ بنا کر دینا وقت طلب امر ہے۔

 شناختی کارڈ کا آئیڈیا اچھا ہے لیکن اسے عمل میں لانا بہت مشکل ہے اور کاغذات کی جانچ کی آڑ میں پولیس عام شہریوں کو بہت پریشان کرے گی۔
بینک ملازم سعیدہ
شیوسینا کی اس مہم کے بارے میں بعض سیاسی پارٹیوں نے کنارہ کشی کی ہے۔ وہ شہر میں دیگر ریاستوں سے آنے والوں کی مخالفت نہیں کرتے ہیں کیونکہ ملک کا دستور انہیں اس کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کہیں بھی اور کسی بھی ریاست میں جا کر آباد ہو سکتے ہیں۔

حکمراں جماعت کانگریس سمیت کئی جماعتوں نے پورے ملک میں یکساں شناختی کارڈ کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر کرٹ سومیہ کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی گزشتہ دس برسوں سے شناختی کارڈ کی ضرورت پر زور دیتی آئی ہے لیکن کسی نے بھی اس جانب توجہ نہیں دیا۔’ شہر کو پہلے ہی دہشت گردوں سے خطرہ ہے اور اس پر کئی حملے بھی ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی آنکھیں نہیں کھلتی ہیں۔‘

وزیر اعلی دیشمکھ کا کہنا تھا کہ انہیں مرکز کی جانب سے گزشتہ اٹھارہ ماہ سے انٹلیجنس رپورٹ مل رہی ہے کہ شہر کو غیرملکیوں سے خطرہ ہے اور انہیں دہشت گرد تنظیمیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتی ہیں اس لیے’ قومی شناختی کارڈ ‘ بنایا جائے جس سے ملکی باشندوں اور غیرملکیوں کی پہچان ہوسکے۔

بڑی تعداد میں لوگوں نے شناختی کارڈ کے آئیڈیا کو ایک مشکل امر قرار دیا ہے۔ شہر میں ایسے لاکھوں لوگ ہیں جو دوسری ریاستوں سے یہاں آکر کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں اور ان کے پاس کسی بھی طرح کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔

بینک منیجر سعیدہ مانکیہ کہتی ہیں: ’شناختی کارڈ کا آئیڈیا اچھا ہے لیکن اسے عمل میں لانا بہت مشکل ہے اور کاغذات کی جانچ کی آڑ میں پولیس عام شہریوں کو بہت پریشان کرے گی۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد