BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 January, 2008, 09:28 GMT 14:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شناختی کارڈ رکھنا ضروری نہیں‘
ہندوستانی شہری(فائل فوٹو)
دلی میں ہزاروں لوگ پڑوسی ریاستوں سے کام کرنے آتے ہیں جن کے لیے مشکل پیدا ہوگی
دارالحکومت دلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ہے کہ حکومت نے دلی میں شہریوں کو شناختی کارڈ دکھانے سے متعلق کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔

لیفٹیننٹ گورنر تیجندر کھنا نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شہریوں کے لیے شناختی کارڈ لے کر چلنے کو ابھی ضروری نہيں بنایا ہے اور نہ ہی شناختی کارڈ کی جانچ کرنے کا کوئی بندوبست کیا گیا ہے اور نہ ہی اس سے متعلق وزارتِ داخلہ کو کوئی احکامات دیے گئے ہیں۔

گزشتہ جمعرات لیفٹیننٹ تیجندر سنگھ نے سخت الفاظ میں کہا تھا دلی میں شہر کے ہر باشندے اور باہر سے آنے والے لوگوں کو شناختی کارڈ دکھانا ضروری ہوگا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کے سبب یہ نیا قدم ضروری تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے حکم کا نفاذ پندرہ جنوری سے ہوگا جس کے لیے حکومت اشتہاری مہم چلائےگي۔ دلی کے لیفیٹننٹ گورنر تیجندر کھنہ نے ہی کہا تھا کہ پندرہ جنوری سے دلی کی پولیس کہیں بھی کسی سے بھی وقت شناختی کارڈ کا مطالبہ کر سکتی ہے اور اگر کسی کے پاس شناختی کارڈ نہ ہوا تو جب تک پولیس مطمئن نہ ہو اس سے پوچھ گچھ کر سکتی ہے۔

گورنر تیجندر کھنّہ نے بی بی سی کوبتایا تھا کہ’ دارالحکومت دلی میں دہشت گردانہ حملوں کا ہم نے نوٹس لیا ہے اس طرح کے حملے ہوچکے ہیں اور ہونے کا اندیشہ اس لیے حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے کہ جو لوگ دارالحکومت میں ہیں یا آتے جاتے ہیں ان کی شناخت تو ہوسکے۔‘

ان سے جب یہ سوال کیا گيا تھا کہ اس طرح کے قدم سے پولیس عام لوگوں کو پریشان کر سکتی ہے تو انہوں نے سخت لہجہ میں کہا ’ اب اس میں کچھ مشکلیں آئیں گی تو آئیں گی لیکن ہمارا ارادہ ہے سکیورٹی کو درست کرنا ہے، سیدھی سی بات ہے۔‘

واضح رہے کہ دلی کے عوام کے درمیان حکومت کے اس فیصلے کے بارے میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت شناختی کارڈ کو ضروری بناکر عام عوام کی زندگی مشکل کررہی ہے۔ وہیں سرکردہ غیر سرکاری تنظیموں نے بھی اس حکم کی مخالفت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دلی میں ہر ریاست سے بڑي تعداد میں لوگ روز گارکی تلاش میں آتے ہیں اور ان میں سے بیشتر کے پاس کوئی بھی شناختی کارڈ نہیں ہے۔ ایسے میں پولیس عام عوام کو پریشان کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت شناختی کارڈ کو ضروری بنانا چاہتی تو پہلے وہ اپنے سبھی شہریوں کو شناختی کارڈ فراہم کرے۔

دلی میں بہار، اترپردیش جیسی ریاستوں سے مزدور کام کرتے ہیں اور ان میں سے نصف کے پاس کسی طرح کا بھی شناختی کارڈ نہیں ہے۔

انڈیا کا حفاظتی کارڈ
شناختی منصوبے پر کروڑوں کی لاگت آئے گی
فائل فوٹوانڈیا کے مزدور
93 فیصدورک فورس کا تعلق غیر منظم سیکٹرسے
نتیش کماربہارکی حکومت
ایک سالہ تقریبات میں کامیابیوں کے ڈنکے
شناختی کارڈ اور کشمیرشناختی کارڈ ڈرامہ
کارڈ کھو گیا، گویا شناخت ہی کھوگئی!
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد