BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر منظم سیکٹر کے مزدوروں کی حالت

فائل فوٹو
’مزدروں کو قانونی حقوق ملنے چاہیے تاکہ جب ان کے ساتھ ناانصافی ہو تو وہ قانوی چارہ جوئی کرسکیں‘
ہندوستان میں کام کرنے والی ورک فورس میں ترانوے فیصد مزدروں کا تعلق غیر منظم سیکٹر سے ہے۔

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ مزدور انتہائی غیر انسانی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں تاہم اب حکومت نے غیر منظم سیکٹر کے مزدروں کی بہتری اور انہیں استحصال سے بچانے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا ہے۔

اس مجوزہ بل کے تحت ایک قومی سماجی سکیورٹی بورڈ بنایا جائے گا جو غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والے مختلف سطح کے مزدروں کےلیے سکیم کی سفارش کرے گا۔ بل میں زرعی اور غیر زرعی سیکٹر میں کوئی تفریق نہیں کی گئی ہے۔

جواہر لعل یونیورسٹی کے پروفیسر دیپانکر گپتا نے منظم سیکٹر کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ملک میں صرف اسی سیکٹر میں ملازمتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ یہاں اجرتوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور مالکان اپنی مرضی سے مزدروں کا جتنا استحصال کرسکتے ہیں، وہ کر رہے ہیں‘۔

News image
 ملک میں صرف اسی سیکٹر میں ملازمتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ یہاں اجرتوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور مالکان اپنی مرضی سے مزدروں کا جتنا استحصال کرسکتے ہیں، وہ کر رہے ہیں
پروفیسر دیپانکر گپتا

حکمراں کانگریس پارٹی نے مزدوروں سمیت خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزانے والے عوام کے لیے بیمہ سمیت بعض سماجی سکیورٹی گارنٹی کی سکیموں کا وعدہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی ترجمان جینتی نٹراجن کا کہنا تھا کہ غیرمنظم مزدوروں کے لیے ’عام آدمی یوجنا‘ کے تحت دیہات میں رہنے والے سب ہی بے زمین گھرانوں کو زندگی اور معذوری کی انشورنس دی جائے گی۔

وزارت خزانہ پہلے ہی اس سکیم کے لیے ایک ہزار کروڑ روپیے مختص کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ مزدور لیڈر اور بایاں محاذ مجوزہ اقدامات کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ ان اقدامات سے مزدروں کو صحیح معنی میں کوئی ٹھوس فائدے نہیں پہنچے گا۔

مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنمامحمد سلیم نےبی بی سی کو بتایا:’حکومت کی جانب سے پیش کیاگيا بل کھوکھلا ہے اور اس کا نفاذ ممکن نہیں۔ بل میں یہ بات واضح کی جانی چاہیے کہ سکیموں کے لیے وسائل کہاں سے لائے جائیں گے اور وہ عوام تک کس ذریعے سے پہنچیں گے‘۔

ان کا مزيد کہنا تھا کہ مزدروں کے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو اور حکومت جو بھی قدم اٹھائے وہ مؤثر ثابت ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ مزدروں کو قانونی حقوق ملنے چاہیے تاکہ جب ان کے ساتھ ناانصافی ہو تو وہ قانوی چارہ جوئی کرسکیں۔

جب ان سے یہ سوال کیا گيا کہ بایاں محاذ غیر منظم سیکٹر کے مزدوروں میں زرعی اور غیر زرعی صنعت کے دو خانوں میں کیوں تقسیم کرنا چاہتی ہے تو ان کا کہنا تھا: ’دونوں مقامات پر کام کرنے کا طریقہ الگ ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ زراعت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے ایک الگ بل لایا جائے اور ان کے لیے سماجی سکیورٹی گارنٹی کی ذمہ داری حکومت اپنے تئیں لے اور زراعت کو چھوڑ کر دیگر جگہوں پر کام کرنے والے مزدروں کی ذمہ داری کمپنی اور حکومت دونوں پر ہو‘۔

News image
زراعت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے ایک الگ بل لایا جائے اور ان کے لیے سماجی سکیورٹی گارنٹی کی ذمہ داری حکومت اپنے تئیں لے
کمیونسٹ رہنمامحمد سلیم

محمد سلیم نے الزام لگایا کہ حکومت نے غیر منظم سیکٹر کے مزدوروں کے حالات کے جائزے کے لیے ارجن سین گپتا کی قیادت میں ایک کمیٹی کی تشکیل کی تھی لیکن اب حکومت اپنی تشکیل کردہ کمیٹی کی سفارشات سے منہ موڑ رہی ہے۔

ارجن سین گپتا کمیٹی کے رکن اور مزدوروں کے لیے کام کرنے والے سوامی اگنی ویش نے بی بی سی کو بتایا کہ’محض سماجی سکیورٹی گارنٹی سیکموں سے کوئی بڑا فائدہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ مزدروں کے لیے کم از کم مزدروی کا نفاذ قومی سطح پر ہو اور زیادہ کام کرنے پر اوور ٹائم کا بھی نظم ہوناچاہیے‘۔

مسٹر اگنی ویش کا کہنا ہے کہ’ سکیم کے تحت مالی ذمہ داری مرکزي حکومت اپنے ذمے لے کیونکہ مرکزی حکومت کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے اور اگر یہ ذمہ داری ریاستی حکومتوں پر ڈالی جاتی ہے تو اس کا نفاذ ممکن نہیں ہے‘۔

دلی کے نواح میں واقع گڑگاؤں کی ایک تعمیراتی فرم میں کام کرنے والے بہار کے ایک جونئیر بجلی مکینک عبدالصادق کے مطابق ’ہمارے ساتھ ہر جگہ ناانصافی ہوتی ہے، مثال کے طور پر میری تنخواہ سے پرووڈینٹ فنڈ (پی ایف) کے پیسے کاٹ لیے جاتے ہیں لیکن پی ایف نمبر نہیں دیاجاتا، مزدروی کبھی بھی وقت پر نہیں ملتی اور اس علاقے کے لیے حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم مزدری نہیں دی جاتی‘۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ گلوبلائزیشن کے اس دور میں جب اقتصادی اصلاحات کا عمل پوری دنیا میں تیز ہورہا ہے، ہندوستان میں مزدوروں کے حالات بہتر بنانے کے لیے سماجی سکیورٹی کے تحت صحت کی انشورنس اور کم از کم اجرت جیسے بنیادی سوالات پر ایک فل پروف نظام کی ضرورت ہے کیونکہ اقتصادی ترقی کے عمل میں صرف مالکان کو ہی فائدے کا حق حاصل نہیں ہے۔ مزدوروں کو بھی ایک بہتر زندگی کا حق حاصل ہے۔

چائلڈ لیبر ایکٹ
انڈیا میں چائلڈ ورکرز کی مشکلات جاری ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد