غیر منظم سیکٹر کے مزدوروں کی حالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں کام کرنے والی ورک فورس میں ترانوے فیصد مزدروں کا تعلق غیر منظم سیکٹر سے ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ مزدور انتہائی غیر انسانی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں تاہم اب حکومت نے غیر منظم سیکٹر کے مزدروں کی بہتری اور انہیں استحصال سے بچانے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا ہے۔ اس مجوزہ بل کے تحت ایک قومی سماجی سکیورٹی بورڈ بنایا جائے گا جو غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والے مختلف سطح کے مزدروں کےلیے سکیم کی سفارش کرے گا۔ بل میں زرعی اور غیر زرعی سیکٹر میں کوئی تفریق نہیں کی گئی ہے۔ جواہر لعل یونیورسٹی کے پروفیسر دیپانکر گپتا نے منظم سیکٹر کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ملک میں صرف اسی سیکٹر میں ملازمتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ یہاں اجرتوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور مالکان اپنی مرضی سے مزدروں کا جتنا استحصال کرسکتے ہیں، وہ کر رہے ہیں‘۔
حکمراں کانگریس پارٹی نے مزدوروں سمیت خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزانے والے عوام کے لیے بیمہ سمیت بعض سماجی سکیورٹی گارنٹی کی سکیموں کا وعدہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی ترجمان جینتی نٹراجن کا کہنا تھا کہ غیرمنظم مزدوروں کے لیے ’عام آدمی یوجنا‘ کے تحت دیہات میں رہنے والے سب ہی بے زمین گھرانوں کو زندگی اور معذوری کی انشورنس دی جائے گی۔ وزارت خزانہ پہلے ہی اس سکیم کے لیے ایک ہزار کروڑ روپیے مختص کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ مزدور لیڈر اور بایاں محاذ مجوزہ اقدامات کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ ان اقدامات سے مزدروں کو صحیح معنی میں کوئی ٹھوس فائدے نہیں پہنچے گا۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنمامحمد سلیم نےبی بی سی کو بتایا:’حکومت کی جانب سے پیش کیاگيا بل کھوکھلا ہے اور اس کا نفاذ ممکن نہیں۔ بل میں یہ بات واضح کی جانی چاہیے کہ سکیموں کے لیے وسائل کہاں سے لائے جائیں گے اور وہ عوام تک کس ذریعے سے پہنچیں گے‘۔ ان کا مزيد کہنا تھا کہ مزدروں کے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو اور حکومت جو بھی قدم اٹھائے وہ مؤثر ثابت ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ مزدروں کو قانونی حقوق ملنے چاہیے تاکہ جب ان کے ساتھ ناانصافی ہو تو وہ قانوی چارہ جوئی کرسکیں۔ جب ان سے یہ سوال کیا گيا کہ بایاں محاذ غیر منظم سیکٹر کے مزدوروں میں زرعی اور غیر زرعی صنعت کے دو خانوں میں کیوں تقسیم کرنا چاہتی ہے تو ان کا کہنا تھا: ’دونوں مقامات پر کام کرنے کا طریقہ الگ ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ زراعت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے ایک الگ بل لایا جائے اور ان کے لیے سماجی سکیورٹی گارنٹی کی ذمہ داری حکومت اپنے تئیں لے اور زراعت کو چھوڑ کر دیگر جگہوں پر کام کرنے والے مزدروں کی ذمہ داری کمپنی اور حکومت دونوں پر ہو‘۔
محمد سلیم نے الزام لگایا کہ حکومت نے غیر منظم سیکٹر کے مزدوروں کے حالات کے جائزے کے لیے ارجن سین گپتا کی قیادت میں ایک کمیٹی کی تشکیل کی تھی لیکن اب حکومت اپنی تشکیل کردہ کمیٹی کی سفارشات سے منہ موڑ رہی ہے۔ ارجن سین گپتا کمیٹی کے رکن اور مزدوروں کے لیے کام کرنے والے سوامی اگنی ویش نے بی بی سی کو بتایا کہ’محض سماجی سکیورٹی گارنٹی سیکموں سے کوئی بڑا فائدہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ مزدروں کے لیے کم از کم مزدروی کا نفاذ قومی سطح پر ہو اور زیادہ کام کرنے پر اوور ٹائم کا بھی نظم ہوناچاہیے‘۔ مسٹر اگنی ویش کا کہنا ہے کہ’ سکیم کے تحت مالی ذمہ داری مرکزي حکومت اپنے ذمے لے کیونکہ مرکزی حکومت کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے اور اگر یہ ذمہ داری ریاستی حکومتوں پر ڈالی جاتی ہے تو اس کا نفاذ ممکن نہیں ہے‘۔ دلی کے نواح میں واقع گڑگاؤں کی ایک تعمیراتی فرم میں کام کرنے والے بہار کے ایک جونئیر بجلی مکینک عبدالصادق کے مطابق ’ہمارے ساتھ ہر جگہ ناانصافی ہوتی ہے، مثال کے طور پر میری تنخواہ سے پرووڈینٹ فنڈ (پی ایف) کے پیسے کاٹ لیے جاتے ہیں لیکن پی ایف نمبر نہیں دیاجاتا، مزدروی کبھی بھی وقت پر نہیں ملتی اور اس علاقے کے لیے حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم مزدری نہیں دی جاتی‘۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ گلوبلائزیشن کے اس دور میں جب اقتصادی اصلاحات کا عمل پوری دنیا میں تیز ہورہا ہے، ہندوستان میں مزدوروں کے حالات بہتر بنانے کے لیے سماجی سکیورٹی کے تحت صحت کی انشورنس اور کم از کم اجرت جیسے بنیادی سوالات پر ایک فل پروف نظام کی ضرورت ہے کیونکہ اقتصادی ترقی کے عمل میں صرف مالکان کو ہی فائدے کا حق حاصل نہیں ہے۔ مزدوروں کو بھی ایک بہتر زندگی کا حق حاصل ہے۔ |
اسی بارے میں چالیس کلو چاول کے بدلے 30 سال مزدوری28 March, 2007 | انڈیا مزدوروں کےمستقبل پرسیاست11 January, 2007 | انڈیا بچہ مزدوری کی'پوسٹرگرل'خودمزدور 22 November, 2006 | انڈیا جرائم اور غیر کشمیری مزدور01 September, 2007 | انڈیا کان میں پھنسے تمام مزدور ہلاک08 September, 2006 | انڈیا لالو کی ’کسان مزدور‘ ریلی منسوخ21 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||