BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 September, 2006, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کان میں پھنسے تمام مزدور ہلاک

مزدور
اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد پندرہ سو فٹ گہری کان سے صرف پانج مزدور باہر نکل سکے تھے
ہندوستان کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں کوئلے کی کان میں پھنسے تقریباً پچاس مزدور ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کی لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔

گزشتہ بدھ کی رات ’بھارت کوکنگ کول لمیٹڈ‘ کی ایک کان میں دھماکہ ہوا جس کے بعد اس میں کام کرنے والے مزدور کان کے اندر پھنس گئے تھے۔

ہلاک ہونے والے مزدوروں کی صحیح تعداد کا اب بھی علم نہیں ہے لیکن حکام کے مطابق دھماکے کے بعد تقریبا پچـاس مزدور پھنس گئے تھے۔

دھنباد ضلع کے ایک سینئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’اس کان میں اب کوئی زندہ نہیں بچا ہے۔‘

کان کے اندر کا معائنہ کرنے والے افسران نے چھیالیس لاشوں کی گنتی کر لی ہے اور اب انہیں باہر نکالا جارہا ہے ۔ کان کے آس پاس متاثرہ افراد کے اہل خانہ، علاقائی لوگوں اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہے اور وہاں کا ماحول نہایت رنجیدہ ہے۔

وزیراعظم منموہن سنگھ نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کان میں کام کرنے والے ایک سکیورٹی گارڈ نارین تیواری کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لاشیں بری طرح جھلس گئی ہیں اس لیے ان کی شناخت کرنا بہت مشکل کام ہے۔

علاقے کے لوگوں میں انتظامیہ اور کان کے افسران کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ’ نگدا‘ کان کے باہر جمع لوگوں نے ہنگامہ آرائی کی اور ایک موقع پر ان لوگوں نے پولیس کا گھیرا توڑ کر خود کان میں گھس کر لاشیں نکالنا شروع کر دی تھیں۔

بعد میں عوام اور انتظامیہ کے درمیان ایک میٹنگ ہوئی اور اعلان کیا گیا کہ متاثرہ افراد کے گھر والوں کو فوری طور پر ملازمت دی جائی گی جس کے بعد ہنگامہ آرائی اوبر احتجاج پر قابو پا لیا گیا۔

اس سے پہلے حکومت نے متاثرہ افراد کو تین تین لاکھ روپے معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔

مزدروں کی ہلاکتیں دھماکے کے بعد کان کے اندر زہریلی گیسیں، یعنی کاربن مونو آکسائڈ اور میتھین، پھیلنے سے ہوئی ہیں۔

اس سے قبل کان میں پھنسے مزدوروں کو باہر نکالنے کے لیئے ماہرین کی ایک ٹیم بھی طلب کی گئی تھی لیکن وہ انہیں زندہ باہر نکالنے میں ناکام رہی۔

گزشتہ اگست میں بھی ایک کان میں پانی بھرنے سے کئی مزدور ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
جھارکھنڈ کا بحران
06 September, 2006 | انڈیا
چین میں دھماکہ، 203 ہلاک
15 February, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد