ورجینیا: لواحقین کا غم غصہ میں تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریاست ورجینیا میں کوئلے کی ایک کان میں پیر کے دن سے پھنسے ہوئے بارہ کان کنوں میں سے صرف ایک کان کن زندہ بچ سکا ہے۔ کان کی مالک کمپنی کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن صرف ایک شحض کو کان سے زندہ نکال پائے ہیں جسے نازک حالت کی وجہ سے ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ زندہ بچنے والے کان کن کا نام چھبیس سالہ رینڈل مکلوائی جونئیر بتایا گیا ہے۔ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ تمام بارہ کان کن زندہ ہیں اور انہیں امدادی ٹیم نے کان میں موجود ایک ائر پاکٹ میں تلاش کر لیا ہے۔ تمام افراد کے بچنے کی خبر سن کر ان افراد کے رشتہ داروں نے خوشیاں منانا شروع کر دیا تھا لیکن اب ان خبروں کے بعد کہ صرف ایک فرد زندہ بچا ہے یہ لوگ شدید صدمے کا شکار ہیں۔ کان میں موجود ایک کان کن مارٹن بینٹ کے رشتہ دار سیم لینڈز کا کہنا تھا کہ کہ ’ہر کوئی صدمے کا شکار ہے۔ مجھے لگا تھا کہ میں مر جاؤں گا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ہم سے ابتدا سے ہی جھوٹ بولا گیا۔ میں جواب دہی چاہتا ہوں‘۔ اس کان کی منتظم کمپنی کے صدر بن ہٹفیلڈ کا کہنا تھا کہ’ ہم اس خوفناک نقصان پر شدید صدمے میں ہیں۔ یہ وہ نتیجہ نہیں جس کی ہمیں توقع تھی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بارہ کان کنوں کے بچ جانے کی خبر’ ایک ناقص اطلاع ‘ تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین تھا کہ یہ کان کن دھماکے سے محفوظ رہے ہیں اور کسی محفوظ مقام پر پہنچ گئے ہیں مگر وہ زہریلے دھوئیں کا شکار ہو گئے‘۔ یاد رہے کہ مغربی ورجینیا کے گورنر نے بھی ان بارہ افراد کے زندہ بچ جانے کو ایک معجزہ قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں دھماکے میں باسٹھ کان کن ہلاک08 December, 2005 | آس پاس کوئلے کی کان میں دھماکہ، 68 ہلاک28 November, 2005 | آس پاس چین: کوئلے کان میں دھماکہ02 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||