چالیس کلو چاول کے بدلے 30 سال مزدوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار میں ایک شخص کو چالیس کلو چاول کے بدلے گزشتہ تین عشرے سے جبری مزدوری کرنی پڑ رہی ہے۔ سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ ایسے معاملے بہت کم سامنے آتے ہیں تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر اس خبر کی تصدیق ہو جاتی ہے تو زمیندار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مرکزي وزیر منحت آسکر فرنانڈیز نے اس خبر پر کہا ہے ’ملک سے بندھوا یا جبری مزدوری کا خاتمہ اس لیے ممکن نہیں ہو سکا ہے کیوں کہ عوام میں بیداری پیدا نہیں ہوئی ہے اور سماج اس کے لیے ذمہ دار ہے‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر یہ خبر صحیح نکلتی ہے تو قصوروار کے خلاف ضروری کارروائی کی جائےگی۔ اس طرح کے غلامی اور بندھوا مزدوری کے خلاف کام کرنے والے ادارے ’انٹی سلیوری انٹرنیشنل‘ کے مطابق جبری مزدوری پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے‘۔ ادارے کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں جبری مزدوری پر 1976 میں پابندی عائد کی گئی تھی لیکن آج بھی لاکھوں مرد، عورتیں اور بچے اس غلامی کے نظام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جواہرمانجھی نامی یہ مزدور بہار کے پیے پور برکی گاؤں میں اپنے چار بیٹے اور اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہیں۔ ستائیس سال پہلے انہوں نے ایک مقامی زمیندار سے چالیس کیلو چاول اس شرط پر لیے تھے کہ وہ زمیندار کے کھیت میں کام کرے گا اور ایک دن کی مزدوری ایک کیلو چاول ہوگی اور اس طرح وہ اپنے قرض کوادا کردے گا۔ جواہر مانجھی کا کہنا ہےکہ اب تک اس قرض کے بدلے وہ زمیندار کو کتنا چاول دے چکے ہيں انہیں خود بھی اس کے بارے میں پتہ نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زمیندار نے رہائی کے لیے تقریبا پانچ ہزار روپے ادا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اتنی بڑی رقم ان کی حیثیت سے باہر ہے۔ اس سلسلے میں زمیندار سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔ | اسی بارے میں چونم کومزدوری سےنجات مل گئی30 November, 2006 | انڈیا بچہ مزدوری کی'پوسٹرگرل'خودمزدور 22 November, 2006 | انڈیا بچہ مزدوری پر پابندی کا قانون 10 October, 2006 | انڈیا جسم فروش خواتین کے لیے قرضے15 March, 2007 | انڈیا انڈیا: ایک ارب ڈالر کا قرضہ 12 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||