چونم کومزدوری سےنجات مل گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چونم عرف چوہیا اب اسکول میں پڑھے گی۔ بہار کی حکومت اسے کتاب، یونی فارم اور وظیفہ بھی مہیا کرائےگی۔ ظاہر ہے اسے اب اپنے والد کے ہوٹل میں دن رات برتن صاف کرنے اور کھانا کھلانے سے بھی نجات مل جائیگی۔ چونم وہی لڑکی ہے جسکی تصویر اقوام متحدہ کے ادارہ ’یونیسیف، نے بچہ مزدوری کے خلاف مہم میں استعمال کی ہے لیکن وہ خود مزدوری کرتی رہی ہے۔ ایک مقامی اخبار نے جب یہ خبر شائع کی کہ مذکورہ پوسٹر میں جو لڑکی بچہ مخالف نعرے بلند کرتی دکھائی گئی ہے وہ خود باپ کے ہوٹل میں صفائی کرتی ہے تو اس پر کافی واویلہ مچا تھا۔ ریاست کے ویلیفئر سیکریٹری وجئے پرکاش کے مطابق چونم کا داخلہ اس سرکاری اسکول میں کرایا جائےگا جواس کےگھر کے پاس ہو۔ چونم کے متعلق خبر شائع ہونے کے بعد کئی حلقوں کی طرف سے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا کہ بچہ مزدوری کے خلاف یونیسیف کے پوسٹر کی لڑکی جب خود ’بچہ مزدور، ہے تواسکی اپیل کا کیا اثرہوگا۔ چونم کے والد نے شکایت کی تھی کہ تصویر چھاپنے والوں نے انکی بیٹی کے لیے کچھ نہیں کیا اور تصویر کے عوض انہیں کوئی مالی تعاون بھی نہیں دیا گیا۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ بچہ مزدوری مخالف مہم میں وہ حکومت کے ساتھ ہے۔ لیکن اسکا یہ کام نہیں ہے کہ وہ ایسے بچوں کی تعلیم تربیت کا کوئی انتظام کرے۔ اسکےمطابق یہ ذمہ داری مقامی انتظامیہ کی ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمارنےاس پورے معاملے کی چھان بین کر کے چونم کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرنے کا حکم دیا ہے۔ یونیسیف کے ایک اہل کار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں اس بات سے خوشی ہے کہ چونم کی تعلیم و تربیت کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ریاست کے ان چوبیس لاکھ بچوں کی طرف بھی توجہ دیگی جواسکول نہیں جاپا رہے ہیں۔ یونیسیف کے پوسٹر میں تصویر شائع ہونے سے پیدا شدہ تنازعہ کے بعد چونم کو تو مزدوری سے نجات مل گئی ہے لیکن بے شمار بچے اب بھی بڑے بڑے اہلکاروں کے دفتروں کے آس پاس ہوٹلوں میں کام کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’ممبئی کے بچے غذا کی کمی کا شکار‘17 June, 2006 | انڈیا بچہ مزدوری کی'پوسٹرگرل'خودمزدور 22 November, 2006 | انڈیا بچہ مزدوری پر پابندی کا قانون 10 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||