انڈیا: چائلڈ ورکرز کی مشکلیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شانتا دوسرے چھ سالہ بچوں کی طرح ہی نظر آتی ہے سوائے اس کے کہ اس کے سر پر ایک کھلا زخم ہے، اس کے ہاتھ سوجے، پھٹے اور سرمئی سے ہیں۔ وہ مشکل سے چل پھر سکتی ہے۔ چھ سے تیرہ سال کی عمر کی تین چھوٹی بچیوں میں شانتا سب سے کم عمر ہے جسے گزشہ ماہ ریاست ہریانہ کے علاقے فرید آباد میں امداد پہنچائی گئی تھی۔ اکتوبر میں حکومت نے بچوں سے جبری مشقت لیے جانے سے متعلق ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت چودہ سال سے کم عمر کے بچوں کے گھریلو ملازمین کے طور پر، چائے اور کھانے پینے کے سٹالوں، ریسٹورانٹس اور ہوٹلوں میں کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ نئے چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت قانون توڑنے والے کو دو سال سے زائد قید اور بیس ہزار روپے تک جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کئی افراد اس بات پر حیران ہیں کہ مقامی پولیس ان بچیوں کو ملازمت دینے والے مالکان کے خلاف اس نئے قانون کے تحت کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتی۔ شانتا کا کہنا ہے کہ اسے اس خاندان کے پاس گزشتہ سال اس کا بھائی چھوڑ کرگیا تھا وہ تب سے اس خاندان کے پاس کام کر رہی تھی۔ اس نے بی بی سی کو بتایا’میں پورا دن پانی میں کام کرتی تھی۔ وہ (مالکہ) روزانہ وقت پر کام ختم نہ کرنے پر ڈنڈے سے مجھے مارتی تھی۔ میں صبح چار بجے اٹھتی اور اس کے بعد کپڑے دھوتی، جھاڑو اور فرش پر پونچھا لگاتی تھی‘۔
شانتا کے مطابق اسے ایک دن میں صرف دو مرتبہ چاول کھانے کو دیے جاتے تھے۔ اور اس کے سونے کا انتظام باتھ روم میں کیا گیا تھا۔ اس نے اپنے ساتھ اس سلوک کی کبھی شکایت نہیں کی کیونکہ اسے اس بات کا علم تھا کہ اس صورت میں اسے اور زیادہ مارا پیٹا جائے گا۔ ریٹا اور سونیتا نامی دو دوسری لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں بھی کم و بیش شانتا ہی کے طرح کے سلوک کا سامنا رہا۔ انہیں اس ظلم سے ایک این جی او نے نجات دلائی۔ ان پر ہونے والے ظلم کی شکایت پولیس سے ان کے مالکوں کے پڑوس میں رہنے والے نے اس وقت کی جب انہیں بری طرح سے مارا پیٹا جا رہا تھا۔ پولیس نے ان بچیوں کو ملازمت دینے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیاہے تاہم یہ مقدمہ بچوں سے جبری مشقت لینے کے نئے اور قدرے سخت قانون کے تحت نہیں بلکہ ذرا کم سخت قانون جووینائل جسٹس ایکٹ کے تحت کیا گیا ہے۔ ان بچیوں کو اس ظلم سے نجات دلانے والی تنظیم شکتی وہنی کے رشی کانت نے بتایا کہ یہ لڑکیاں مغربی بنگال سے لائیں گئیں تھیں اور تب سے وہ غیر قانونی ورکر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ ان سے بدسلوکی کی گئی اور انہیں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے باوجود ان کے مالکان کے خلاف چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ مالکان پہلے ہی ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شانتا کو ملازمت دینے والے مالکوں کے خلاف چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی کیونکہ بچیوں کو کام کے بدلے اجرت دی جا رہی تھی۔ فرید آباد پولیس کے سپرنٹنڈنٹ مہندر سنگھ کا کہنا تھا کہ چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت اس وقت کارروائی کی جا سکتی ہے جب چودہ سال سے کم عمر بچے کو بلا معاوضہ مشقت کا نشانہ بنا جا رہا ہو اور بچوں کی خرید و فروخت کی جا رہی ہو۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی اس لیے مالکان کے خلاف یہ قانون قابل عمل نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چائلڈ لیبر ایکٹ میں اس قسم کا امتیاز نہیں برتا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون چودہ سال سے کم عمر تمام بچوں کے گھریلو ملازم کے طور پر، سڑکوں اور ہوٹلوں میں کام کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے۔
ریاست ہریانہ کے لیبر منسٹر بریندر سنگھ ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں تاہم مقامی میڈیا کے دباؤ پر انہوں نے اب چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت ان مالکان کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ اکتوبر میں نئے چائلڈ لیبر ایکٹ کے نفاذ کے بعد سے ہی سماجی کارکن بڑے پیمانے پر اس پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ شانتا کی طرح کے دیگر کیس ان کے اسی خوف پر یقین کی مہر لگاتے ہیں۔ غیر سرکاری اداروں کا کہنا ہے کہ اگر بچوں سے اسی طرح غیر انسانی طریقوں سے کام لیا جاتا رہا تو سیاسی اور انتظامی اداروں میں بیٹھے ہوئے افراد ان کی حالت زار سے بے خبر ہی رہیں گے۔ (شانتا، ریٹا اور سونیتا ان تینوں بچیوں کے نام اصل نہیں ہیں) | اسی بارے میں انڈیا: چائلڈ لیبر پر پابندی02 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||