BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 January, 2008, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی میں شناختی کارڈ دکھانا ضروری

دلی کے شہری
دلی میں ہزاروں لوگ پڑوسی ریاستوں سے کام کرنے آتے ہیں جن کے لیے مشکل پیدا ہوگی
ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں ایک نئے حکم کے تحت شہر کے ہر باشندے اور باہر سے آنے والے لوگوں کو شناختی کارڈ دکھانا ضروری ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کے سبب یہ نیا قدم ضروری تھا۔

نئے حکم کا نفاذ پندرہ جنوری سے ہوگا جس کے لیے حکومت اشتہاری مہم چلائےگي۔ دلی کے لیفیٹنٹ گورنر تیجندر کھنہ کے مطابق پندرہ جنوری سے دلی کی پولیس کہیں بھی کسی سے بھی وقت شناختی کارڈ کا مطالبہ کر سکتی ہے اور اگر کسی کے پاس شناختی کارڈ نہ ہوا تو جب تک پولیس مطمئن نہ ہو اس سے پوچھ گچھ کر سکتی ہے۔

گورنر تیجندر کھنّہ نے بی بی سی کوبتایا کہ’ دارالحکومت دلی میں دہشت گردانہ حملوں کا ہم نے نوٹس لیا ہے اس طرح کے حملے ہوچکے ہیں اور ہونے کا اندیشہ اس لیے حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے کہ جو لوگ دارالحکومت میں ہیں یا آتے جاتے ہیں ان کی شناخت تو ہوسکے۔‘

ان سے جب یہ سوال کیا گيا کہ اس طرح کے قدم سے پولیس عام لوگوں کو پریشان کر سکتی ہے تو انہوں نے سخت لہجہ میں کہا ’ اب اس میں کچھ مشکلیں آئیں گی تو آئیں گی لیکن ہمارا ارادہ ہے سکیورٹی کو درست کرنا ہے، سیدھی سی بات ہے۔‘

اس سے سکیورٹی تو کسی بھی طرح بہتر نہیں ہوگی کیونکہ اگر شدت پسندوں کہ معلوم ہو کہ شناختی کارڈ ضروری ہے تو وہ اسے بڑے آرام سے بنوا لیں گے، ملک کی تقریبا نصف آبادی بغیر کسی شناختی کارڈ کے ہے تو اس سے عام لوگوں کی مشکلیں بڑھیں گی اور پولیس آئی کارڈ کے نام پر جسے چاہے پریشان کر سکتی ہے۔
سماجی کار کن اور سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن

کئی ماہرین کہتے ہیں کہ اس نئے حکم سے دلی میں کام کرنے والے مزدوروں کی مشکلیں بڑھ جائیں گی اور پولیس کو رشوت لینے کا ایک اور موقع مل جائےگا۔

سماجی کارکن اور سپریم کورٹ کے سرکردہ وکیل پر شانت بھوشن نے بی بی سی کو بتایا’ اس سے سکیورٹی تو کسی بھی طرح بہتر نہیں ہوگی کیونکہ اگر شدت پسندوں کہ معلوم ہو کہ شناختی کارڈ ضروری ہے تو وہ اسے بڑے آرام سے بنوا لیں گے، ملک کی تقریبا نصف آبادی بغیر کسی شناختی کارڈ کے ہے تو اس سے عام لوگوں کی مشکلیں بڑھیں گی اور پولیس آئی کارڈ کے نام پر جسے چاہے پریشان کر سکتی ہے۔‘

دلی کی عوام کی رائے اس بارے میں مختلف ہے۔ سومن کہتی ہیں کہ دلی میں بہت لوگ باہر سے آتے جاتے رہتے ہیں اس لیے سکیورٹی کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔ لیکن موہن اس سے ناراض ہیں۔ بقول ان کے ’پہلے تو حکومت سب کو آئی کارڈ دے پھر یہ باتیں کرے، اس سے پولیس کو رشوت لینے کا ایک اور موقع ملےگا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کے جیب میں پیسہ ہو وہی دلی آئے۔‘

معراج کہتے ہیں ہر روز لوگ جو باہر سے دلی آتے ہیں انہیں اس سے بہت پریشانی ہوگی اور پولیس انہیں ہراساں کرےگی۔ انجلی کہتی ہیں کہ آج جیسے ہر شخص کے لیے ڈرائیونگ لائسنس ضروری ہوتا ہے اور سب لے کر چلتے ہیں، ویسے سب شناختی کارڈ بھی لے کر چلیں گے اس لیے اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ شناخت کے طور پر لوگ ووٹر آئی ڈی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، کالج یا دفاتر کے شناختی کارڈ بھی دکھا سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دلی کے تقریبا نصف شہری کسی بھی طرح کے شناختی کارڈ سے محروم ہیں۔ جبکہ دلی میں کام کرنے کے لیے ہزاروں لوگ ہر دن پڑوسی ریاستوں سے آتے ہیں اور ریاست یو پی اور بہار سے نقل مکانی کرکے آیا ایک بڑا طقبہ دلی میں کام کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان سب لوگوں کو شناختی کارڈ کون مہیا کرےگا۔

انڈیا کا حفاظتی کارڈ
شناختی منصوبے پر کروڑوں کی لاگت آئے گی
فائل فوٹوانڈیا کے مزدور
93 فیصدورک فورس کا تعلق غیر منظم سیکٹرسے
نتیش کماربہارکی حکومت
ایک سالہ تقریبات میں کامیابیوں کے ڈنکے
شناختی کارڈ اور کشمیرشناختی کارڈ ڈرامہ
کارڈ کھو گیا، گویا شناخت ہی کھوگئی!
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد