راج ٹھاکرے کی گرفتاری ’ممکن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاستی ایڈوکیٹ جنرل نے مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کی گرفتاری سے متعلق حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ٹھاکرے کو گرفتار کیے جانے سے متعلق کافی ثبوت ہیں اور انہیں تعزیرات ہند کی دفعہ 153(A) کے تحت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ آئی پی سی ( انڈین پینل کوڈ ) کی اس دفعہ کے مطابق کسی کے مذہب، فرقے ، نسل و قوم کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینا یا تحریری طور پر کہنا جرم ہے اس کے مرتکب شخص کو ناقابل ضمانت جرم کے تحت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ٹھاکرے کے خلاف پولیس میں دو ایف آئی آر درج ہیں لیکن پولیس نے ابھی تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے۔گزشتہ پانچ دنوں سے شہر میں ہو رہے تشدد پر ریاستی وزیراعلٰی ولاس راؤ دیشمکھ پر ٹھاکرے کی گرفتاری کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ نے صحافیوں کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت ٹھاکرے کی گرفتاری کے بعد ردعمل سے نہیں گھبراتی ہے۔ پولیس کے پاس شرپسندوں کو کچلنے کے لیے کافی عملہ ہے۔
انہوں نے صحافیوں کو اس سلسلہ میں دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ ٹھاکرے کی گرفتاری کے لیے پولیس پختہ ثبوت اکٹھا کر رہی ہے اور اس کے علاوہ ایڈوکیٹ جنرل سے اس سلسلہ میں قانونی مشورہ لیا جا رہا ہے۔ حکومت نے ٹھاکرے کے اخبارات میں دیے گئے بیانات کے تراشے اور ٹی وی چینلز کے ویڈیو کی کلپنگ ایڈوکیٹ جنرل کو دی تھی۔ جوائنٹ پولیس کمشنر (نظم و نسق) کے ایل پرساد نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی ایڈوکیٹ جنرل کی رائے سامنے آئی ہے۔ اس سلسلہ میں اعلی پولیس افسران اور ریاستی اعلی عہدیداران کی میٹنگ کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ پرساد کا کہنا تھا’ اگر راج ٹھاکرے گرفتار ہوتے ہیں تو شہر میں کسی بھی طرح کے تشدد سے نمٹنے کے لیے پولیس پوری طرح تیار ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا’پولیس شرپسندوں کو بری طرح کچلنا جانتی ہے۔ویسے بھی شہر میں پولیس عملہ کے ساتھ سریع الحرکت فورس اور سٹیٹ ریزرو پولیس کا دستہ بھی متعین ہے‘۔
ٹھاکرے کے تحفظ پر مامور تمام پولیس عملہ کو بدل دیا گیا تھا۔ان کی حفاظت کے لیے ان کے گھر پر بیس پولیس اہلکار تعینات ہیں اور اچانک ان کی جگہ نئے پولیس اہلکاروں نے لے لی ہے۔ زیڈ سیکورٹی کے ساتھ ٹھاکرے اس وقت پونے میں ہیں جہاں وہ کسی پروگرام میں شرکت کریں گے۔ وہیں جمعرات کو ممبئی میں تشدد کے پانچویں دن شرپسندوں نے ٹیکسی یونین کے دفتر پر حملہ کر دیا۔اس حملہ کے بعد ٹیکسی مینس یونین کے جنرل سکریٹری کے ایل کدروس نے فوری طور پر ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا۔لیکن ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد یہ ہڑتال واپس لے لی گئی۔کدروس کے مطابق پاٹل نے انہیں ٹیکسی ڈرائیوروں کو تحفظ دینے اور ان کے نقصان کی بھرپائی کا بھی وعدہ کیا ہے۔ دریں اثناء ماٹونگا پولیس نے ایک بار پھر ایم این ایس کے تین لیڈران پروین دریکر، نتن سردیسائی اور امیت شیروڈکر کو حراست میں لے لیا ہے۔اس سے قبل پولیس نے شیشر شندے اور رکن اسمبلی بالاناندگاؤنکر کو گرفتار کیا تھا۔ گزشتہ چند دنوں سے ممبئی کے حالات کشیدہ ہیں۔ٹھاکرے کی بیان بازیوں کے بعد ممبئی نو نرمان سینا یعنی ایم این ایس کے کارکنان نے شمالی ہند کے باشندوں پر حملے شروع کر دیے تھے۔پولیس نے ایم این ایس اور سماج وادی ورکروں سمیت دو سو چھبیس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ان میں ایم این ایس کے پانچ لیڈران بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں ممبئی میں تشدد بدستور جاری 06 February, 2008 | انڈیا مہاراشٹر تشدد، درجنوں گرفتار05 February, 2008 | انڈیا فلیٹس میں ریزرویشن کا مطالبہ23 January, 2008 | انڈیا شیو سینا کانگریس کی حامی02 September, 2007 | انڈیا شیو سینا اور بی جے پی میں اختلاف26 June, 2007 | انڈیا راج ٹھاکرے نے نئی پارٹی بنا لی09 March, 2006 | انڈیا مہاراشٹر: شیوسینا کا پرتشدد احتجاج09 July, 2006 | انڈیا شیوسینا پارٹی کا خاتمہ؟27 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||