BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 February, 2008, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہاراشٹر تشدد، درجنوں گرفتار

تشدد کی تصویر
’شمالی ہند کے باشندے کئی ریاستوں میں تشدد کا نشانہ بنے ہيں‘
ہندوستان کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کے خلاف پرتشدد حملوں کے واقعات کے بعد ریاستی پولیس نے تقریباً پچھہتر افراد کوگرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار ہونے والوں کا تعلق ریاست کی سیاسی پارٹی مہاراشٹر نونرمان سیان اور اترپردیش کی سیاسی جماعت سماج وادی پارٹی سے ہے۔

گرفتارشدگان میں سے پچس افراد کو ممبئی سے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ممبئي کے نواحی شہر تھانے میں پچاس افراد کی گرفتاری ہوئی ہے۔

ادھر بدھ کو بھی ریاست میں شمالی ہند کے باشندوں کے خلاف پر تشدد حملوں کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں اور یہ سب ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب ریاست میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل علاقائی سیاسی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس ) کے صدر راج ٹھاکرے کا کہنا تھا کہ شمالی ہند کے باشندوں کو اگر ممبئی میں رہنا ہے تو مراٹھیوں کی تہذیب اپنانی ہو گی اور ان کو اپنے علاقائی تہوار منانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

ٹھاکرے کے اس بیان کے بعدگزشتہ اتوار کو اترپردیش کی سیاسی جماعت سماج وادی پارٹی نے ممبئی میں ایک ریلی کی تھی اور ایم این ایس کی نکتہ چينی کی تھی۔ دونوں پارٹیوں کے اس بیان بازی کے بعد سے شہر میں حالات بدستور کشیدہ ہيں۔دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ شمالی ہند کے شہر رانچی میں بعض افراد نے ایک گاؤں میں مقیم مراٹھیوں پر حملے کیے ہيں۔

ٹیکسی پر حملے کی تصویر
منگل کو ایک ٹیکسی ڈرائیور پر بھی حملے ہوئے تھے

دلی میں حزب اختلاف کی جماعت بھاریتہ جنتاپارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڑکر نے ایک پریس کانفرنس میں مہاراشٹر اور رانچی میں ہوئے پرتشدد حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر حکومت سے نو نرمان سینا اور سماج وادی پارٹی کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ممبئی میں غیر مراٹھیوں کو پرتشدد نشانے بنانے کا یہ واقعہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے۔ اس سے پہلے 1969 میں شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے جنوبی ہند سے آئے لوگوں کو نشانہ بنایا تھا اور غریب مزدوروں کو زدو کوب کیا تھا۔

محنت کش طبقہ
 اتر پردیش اور بہار سے آئے زیادہ تر لوگ محنت کش طبقہ سے ہیں۔ممبئی میں زیادہ تر ٹیکسیوں کے ڈرائیور شمالی ہند کے باشندے ہيں۔اس کے علاوہ ممبئی کا دودھ والا سبزی والا، اخبار بیچنے والا،پھیل پوری، چاٹ بیچنے کے ساتھ پھیری والا بھی شمالی ہند کے ہی باشندے ہیں۔

لوک مت کے ایڈیٹر نکھل واگلے کے مطابق’اس وقت شیوسینا نے جو کیا وہ بال ٹھاکرے کی سیاست کا حصہ تھا اور جو آج کل راج ٹھاکرے کر رہے ہیں وہ بھی گندی سیاست کا ہی ایک حصہ ہے‘۔

واگلے کے مطابق’راج ٹھاکرے نے دو برس قبل شیوسینا سے باہر نکلنے کے بعد اپنی جو پارٹی بنائی ہے اس کے پاس ابھی تک کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور مراٹھی ووٹ بینک کے لیے انہوں نے اپنے چاچا ٹھاکرے کی ہی طرح کارڈ کھیلا ہےاور شاید وہ اس میں کچھ حد تک کامیاب بھی ہو جائیں‘۔

سینئر صحافی اور لوک ستا کے ایڈیٹر کمار کیتکر کے مطابق’سن 2004 میں لوک سبھا انتخابات میں شیو سینا لیڈر منوہر جوشی کی شکست نے شیو سینا کو یہ احساس دلایا کہ ان کی پارٹی شمالی ہند کے باشندوں کو نظرانداز کر کے کامیاب نہیں ہو سکتی اس لیے انہوں نے ان باشدوں کے پروگراموں میں شرکت شروع کی۔ یہی راج ٹھاکرے کو احساس ہوا کہ وہ کیسے شیوسینا کے مراٹھی ووٹ بینک کے قلعہ میں سیندھ لگا سکتے ہیں اور جو کچھ ان دنوں ہو رہا ہے وہ سب اسی سیاست کا حصہ ہے‘۔

ممبئی اور اس کے نواحی علاقوں کی آبادی ایک کروڑ پچاس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔اس میں مراٹھی محض اٹھائیس فیصد ہیں جبکہ شمالی ہند کے رہنے والوں کی آبادی تینتیس فیصد ہو چکی ہے۔

پولیس کی کاروائی کی تصویر
پولیس نے پچھہتر افرار کو گرفتار کیا ہے

اتر پردیش اور بہار سے آئے زیادہ تر لوگ محنت کش طبقہ سے ہیں۔ممبئی میں زیادہ تر ٹیکسیوں کے ڈرائیور شمالی ہند کے باشندے ہيں۔اس کے علاوہ ممبئی کا دودھ والا سبزی والا، اخبار بیچنے والا،پھیل پوری، چاٹ بیچنے کے ساتھ پھیری والا بھی شمالی ہند کے ہی باشندے ہیں۔

نکھل واگلے کا کہنا تھا کہ ایک عام مراٹھی جو تعلیم یافتہ ہے، وہ غیر مراٹھیوں کو قبول کر چکا ہے لیکن کم تعلیم یافتہ طبقہ کو ایسے سیاستداں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔’وہ انہیں جذباتی طور پر بلیک میل کر کے اپنی ووٹوں کی سیاست کو چمکانے میں لگے ہیں۔‘

ممبئی میں ووٹوں کی سیاست میں بہرحال ایک بار پھر غیر مراٹھی نشانہ بنے ہیں۔ملک کا دستور ہر شہری کو ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے کی آزادی دیتا ہے لیکن محنت کش طبقہ صرف ممبئی ہی نہيں بلکہ آسام اور دوسری ریاستوں میں بھی اکثر علاقائی سیاست کا شکار ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
شیو سینا کانگریس کی حامی
02 September, 2007 | انڈیا
شیوسینا پارٹی کا خاتمہ؟
27 November, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد