ممبئی میں تشدد بدستور جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے شہر ممبئی میں چوتھے دن بھی تشدد بدستور جاری ہے۔ بدھ کو کچھ نامعلوم افراد نے دو رکشوں میں آگ لگا دی اور ایک نجی ٹی وی چینل کی وین پر بھی پتھراؤ کیا۔ ادھر ممبئی میں اتوار کے روز پر تشدد واقعات کے دوران مبینہ طور پر خاموش تماشائی بنے رہنے والے دو پولیس اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا ہے اور ایک اسسٹنٹ پولیس کمشنر کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ایڈیشنل پولیس کمشنر رجینش سیٹھ کے دفتر سے ملی اطلاع کے مطابق پولیس سب انسپکٹر موتی رام کدم اور دیپک کدم کو کام میں لاپروائی برتنے کے الزام میں برطرف کرنے اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر بی بھانگے کے خلاف محکمہ جاتی تفتیش کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ ریاست کے نائب وزیراعلی اور وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا جو اتوار کو ایک ٹیکسی ڈرائیور پر حملہ کے وقت مبینہ طور پر خاموش کھڑے رہے تھے۔ بدھ کو رکشہ میں آگ لگانے کی واردات اوشیوارہ پولیس سٹیشن کےحدود میں ہوئی ہیں۔ اس واردات کے خلاف پولیس نے کیس درج کر لیا ہے لیکن ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ دیگر واقعات میں ایم این ایس کے کارکنوں شمالی ریاستوں کے باشندوں کو نشانہ بنایا ہے۔ کئي مقامات پر ٹیکسی ڈرائیوروں کا شناختی کارڈ دیکھ کر ان پر حملے کیے جارہے ہیں۔اترپردیش اور بہار سے آنے والی ٹرینوں کے مسافروں کے ساتھ مار پیٹ کررہے ہیں اور دھمکی دی ہے کہ شمالی ہند سے آنے والی ٹرینوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکا جائے گا۔ ریاست کے وزیراعلٰی ولاس راؤ دیش مکھ نے بتایا ہے کہ اتوار سے اب تک پولیس نے ایم این ایس کے دو لیڈران سمیت 143 کارکنان اور سماج وادی کے نوے کارکنان کو گرفتار کیا ہے جبکہ وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے صحافیوں سے کہا کہ وہ راج ٹھاکرے اور ابو عاصم اعظمی کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے اخبارات میں شائع خبریں اور ٹی وی چینل پر بیانات کی ریکارڈنگ جمع کر رہے ہیں اور قانونی مشورے کے بعد کارروائی کیے جانے کا یقین دلایا ہے۔ جوائنٹ پولیس کمشنر ( نظم و نسق) کے ایل پرساد نے شہر میں ہونے والی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ کچھ سماج دشمن عناصر بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں جو شہر میں امن و امان کی صورت حال کو بگاڑنے کی کوشش میں ہیں۔
پرساد کے مطابق بھوجپوری سٹار منوج تیواری اور امیتابھ بچن کے بنگلہ پر ایم این ایس کے ورکروں نے حملہ نہیں کیا تھا۔ پرساد کا کہنا ہے کہ جہاں ایم این ایس کے ورکروں نے حملہ کیا ہے اس کی ذمہ داری انہوں نے لی ہے لیکن ان دو جگہ پر حملہ کی ذمہ داری لینے سے انہوں نے انکار کر دیا ہے۔ اس دوران راج ٹھاکرے اور ابو عاصم اعظمی کے گھر پر پولیس کے علاوہ سریع الحرکت فورس کے جوان تعنیات کر دیے گئے ہیں۔ایم این ایس لیڈر اور رکن اسمبلی بالا ناندگاؤنکر نے جنہیں پولیس نے اتوار کے روز شیواجی پارک میں توڑ پھوڑ کے لیے اکسانے پر گزشتہ روز گرفتار کیا تھا، رہائی کے بعد بی بی سی سے گفتگو کے دوران اپنی پارٹی کے موقف کو درست قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا ’یوپی اور بہار کے لوگ یہاں آکر ممبئی کا انفراسٹرکچر خراب کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے لالو کے ایک بیان پر کہا کہ اگر وہاں کے لوگوں نے ممبئی کو ترقی دلائی ہے تو وہ وہاں خود ایک ممبئی کیوں نہیں بنا لیتے انہیں یہاں آنے کی کیا ضرورت ہے؟ ناندگاؤنکر نے ان کی پارٹی کے کارکنان کے ذریعہ تشدد کیے جانے پر کہا ’ اگر یوپی بہار کے لوگ یہاں آکر مراٹھیوں کو دھمکائیں گے اور ان کا حق چھینیں گے تو مراٹھی اسے برداشت نہیں کر سکتے‘۔ ناندگاؤنکر نے ہندی چینلوں کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ یہ چینل جان بوجھ کر معاملہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں مہاراشٹر تشدد، درجنوں گرفتار05 February, 2008 | انڈیا فلیٹس میں ریزرویشن کا مطالبہ23 January, 2008 | انڈیا شیو سینا کانگریس کی حامی02 September, 2007 | انڈیا شیو سینا اور بی جے پی میں اختلاف26 June, 2007 | انڈیا راج ٹھاکرے نے نئی پارٹی بنا لی09 March, 2006 | انڈیا مہاراشٹر: شیوسینا کا پرتشدد احتجاج09 July, 2006 | انڈیا شیوسینا پارٹی کا خاتمہ؟27 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||