انڈیا: سکیورٹی کے نئے خدشات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دنوں قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نےحزب اختلاف کے رہنماء ایل کے اڈوانی سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ شدت پسندوں نے انہیں ہلاک کرنے کا ایک منظم منصوبہ بنا رکھا ہے۔ نارائنن نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی مجوزہ سیاسی ریلیاں منسوخ کر دیں اور عوامی مقامات پر لوگوں سے ملنے جلنے سے احتراز کریں۔ دسمبر میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ہندوستان میں سکیورٹی ایجنسیاں زبردست خدشات میں مبتلا ہیں۔ انٹیلی جنس بیور کے سابق اہلکار ایس کے سبرامنیم کا کہنا ہےکہ پاکستان اور افغانستان کی صورت حال مسلسل بگڑ رہی ہے اور اس کا براہ راست اثر ہندوستان پر پڑتا ہے۔ ’سکیورٹی ایجنسیوں کو یہ ڈر ہے کہ شدت پسند وہاں سے یہاں آکر پریشانیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کو خطرے کی جو بات بھی کہی جا رہی ہے وہ دراصل انہيں اندیشوں کی کڑی ہے۔‘ ہندوستان میں سیاسی رہنماؤں کے قتل کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں۔ یہاں وزیر اعظم اندرا گاندھی اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی، پنجاب کے وزیراعلی بے انت سنگھ، کشمیرکےمیر واعظ مولانا فاروق اور کئی وزراء اور رہنماء شدت پسندوں کے حملوں میں مارے جا چکے ہيں۔ انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ اجیت ڈووال کہتے ہیں کہ دہشتگردی کی ہر تحریک ایک سیاسی تحریک ہوتی ہے اور سیاسی رہنماؤں کے قتل سے ان کے نظریات تیزی سے اور دور پتک پھیلتے ہیں۔’اسٹریٹجک ٹارگٹ کی اہمیت ان ڈسکرمینٹ ٹارگٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔سیاسی رہنما سٹریٹجک ٹارگٹ ہوتے ہیں۔‘ یوں تو سیاسی رہنماؤں کو ہلاک کرنے کے لیے موقع و محل کے لحاظ سے الگ الگ طریقہ کار اختیار کیا گيا لیکن اب سیاسی جلسوں میں بم رکھنے اور فدائین حملے کا چلن بڑھا ہے۔ کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل ایس ایم سہائے کہتے ہیں کہ سیاسی رہنماؤں کی حفاظت اب پہلے سے بہت زيادہ مشکل ہوگئی ہے۔’ ہم سیاسی جلسے کے مقام پر پہلے سے پولیس تعیناتی کرتے ہیں۔ لوگوں کی تلاشی لیتے ہيں لیکن تعداد زيادہ ہونے کے سبب کوتاہی کی گنجائش تو رہتی ہے۔‘
ہندوستان میں اس وقت وزیر اعظم اور حزب اختلاف کے رہنما سمیت درجنوں سیاسی رہنماؤں کو انتہائی حفاظت والے ’ زیڈ‘ زمرے میں رکھا گيا ہے۔ان رہنماؤں کی حفاظت پر چوبیس گھنٹے انتہائی تربیت یافتہ کمانڈو تعینات ہیں۔‘ خفیہ بیورو کے سابق سربراہ اجیت ڈووال کہتے ہیں’ سیاسی رہنماؤں کی حفاظت کا نظام بہت ہی اچھا ہے اور شدت پسند تنظیموں کے لیےان تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ جہاں تک فدائین حملے کا سوال ہے ایسی صورت میں پیچیدگی ضرور بڑھ جاتی ہے۔‘ خودکش حملوں اور حملوں میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے خفیہ اداروں اور پولیس کی مشکلات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ لیکن خفیہ شعبے کے سابق سربراہ ایم کے دھر کا کہنا ہےکہ ایک جمہوری نظام میں موت کے خوف سے سیاسی رہنما گھر نہيں بیٹھ سکتے۔’اگر ہمارے نیتا گھر بیٹھے رہے تو جمہوریت ہی ختم ہوجائے گی۔‘ ماہرین کا کہنا ہےکہ پاکستان کی سابق وزيراعظم بینظیر بھٹو کو یہ واضح طور پر پتہ تھا کہ انہيں قتل کیا جا سکتا ہے اور وہ شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں لیکن اس کے باوجود وہ باہرآئیں۔ جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی رہنماؤں کو یہ خطرہ تو مول لینا ہی ہوگا۔ |
اسی بارے میں اڈوانی کو خطرے سے آگاہ کر دیا گیا05 February, 2008 | انڈیا ’بھارتی فوج میں آئی ایس آئی جال‘23 October, 2006 | انڈیا انڈیا: یومِ آزادی، حملوں کا خطرہ 12 August, 2006 | انڈیا وزیراعظم ہاؤس میں دراندازی 28 July, 2006 | انڈیا انڈین کشمیر: صدر کا دورہ، ہائی الرٹ27 July, 2006 | انڈیا ہمیں کوئی جھکا نہیں سکتا: منموہن12 July, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||