وزیراعظم ہاؤس میں دراندازی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم منمہوہن کی رہائش گاہ پر جمعرات کی رات تین نوجوان بلا اجازت داخل ہوگئے ۔انہیں پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ دو لڑکیاں اور ایک لڑکا جن کے نام وینا چودھری ، یوگیتا گڈوانی اورعمران بتائے گئے ہیں ایک کار مین سوار وزیراعظم کی رہائش گاہ کے احاطے میں داخل ہو گئے اور سخت سکیورٹی کے حلقے کو پار کرتے ہوئے آخری بیرئیرتک پہنچ گئے۔ وینا اور یوگیتا ایک ائر لائنزکی ائر ہوسٹس بتائی جاتی ہیں اور ان کا تعلق جے پور سے ہے ۔ ان کے ساتھ عمران نام کا ایک نوجوان بھی تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تینوں نشے کی حالت میں تھے۔ وہاں موجود خصوصی فورس کے کمانڈوز نے جب ان سے وہاں آنے کا سبب پوچھا تو بظاہر لڑکیوں نے بتابا کہ وہ وزیراعظم سے ملنا جاہتی ہیں۔ بعد میں حفاظتی عملے نے انہیں وہاں سے جانے کی اجازت دے دی لیکن تقریباً دس منٹ بعد انہیں وزیر اعظم کی رہائش گاہ سے تقریبً چھ کلومیٹرکی دوری پر سروجنی نگر کے نزدیک حراست میں لے لیا گیا۔ نصف رات گئے تینوں سے پوچھ گچھ کے بعد میڈیکل جانچ کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔ وزیر اعظم کے حفاظتی انتظامات میں یہ در اندازی اس وقت ہوئی جب وہاں سلامتی سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کا اجالاس ہو رہا تھا۔ جس کی صدارت خود وزیر عظم کر رہے تھے۔
تاہم وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے سے حفاظتی انتظامات میں کسی غفلت کا ارتکاب نہیں ہوا ہے کیونکہ کسی پیشگی اپوائنٹ منٹ کے بغیر بھی لوگ وزیراعظم کی رہائش گاہ کے استقبالیہ ہال تک جا سکتے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے اس واقعے پر سخت تشویش ظاہر کی ہے ۔ پارٹی کے رہنما روی شنکر پرساد نے کہا کہ ’انہیں وزیر اعظم کے حفاظتی انتظامات کے بارے میں اب شبہ ہے۔ تین غیر متعلقہ لوگ بغیر روک ٹوک وزیراعظم کے گھر کے دروازے تک پہنچ جائیں، یہ فکر کی بات ہے‘۔ ادھر پولیس نے متعلقہ کار کی تلاشی لی ہے لیکن کوئی قابل اعتراض چیز نہین ملی ہے۔ جس وقت سکیورٹی کی خلاف ورزی ہوئی اس وقت یہ کار یوگیتا گڈوانی چلا رہی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ کار دلی کے کسی زاہد نامی شخص کے نام رجسٹرڈ ہے۔ بظاہر یہ لوگ موج مستی کے عالم میں وزیراعظم کی رہائش گاہ تک یہ اندازہ لگانے کے لیے پہنچ گئے کہ وہ کہاں تک جا سکتے ہیں۔ اطلا عات ہیں کہ دونوں لڑکیوں کو ان کی ائر لا ئنز نے ملازمت سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کار میں سوار تیسرا شخص عمران ائر کنڈیشنرز کا بزنس کرتا ہے | اسی بارے میں ہمیں کوئی جھکا نہیں سکتا: منموہن12 July, 2006 | انڈیا منموہن سنگھ کی مقبولیت 28 May, 2006 | انڈیا وزيراعظم منموہن سنگھ کی تقریر 24 May, 2006 | انڈیا حریت۔منموہن ملاقات اور شہنائی کا جادو30 April, 2006 | انڈیا وزارت خارجہ پریشان، منموہن کا دورۂ پاکستان ۔۔۔16 April, 2006 | انڈیا ’حقائق ناکافی ہیں‘:منموہن سنگھ 30 October, 2005 | انڈیا منموہن کڑی نکتہ چینی کی زد میں 06 November, 2004 | انڈیا مسلمان: ’ آمریت یا جمہوریت‘08 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||