’اگر قصوروار ہے تو پھانسی دے دو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیرہ ستمبر کو دلی میں ہونے والے بم دھماکوں کے مبینہ ماسٹر مائینڈ توقیر عرف عبدالسبحان قریشی کی والدہ زبیدہ قریشی نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے لیکن اگر وہ قصوروار ہے تو اسے سر عام پھانسی پر لٹکا دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے کیونکہ انہوں نے اسے بہت اچھی تربیت دی ہے۔’ ہم اچھے خاندان سے ہیں اور ہم ہمیشہ ہر مذہب کے لوگوں کے ساتھ مل کر رہتے ہیں۔‘ زبیدہ قریشی نے یہ بات ممبئی میں شہر کی تقریباً بیس مسلم تنظیموں اور موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس نامی تنظیم کی طرف سے بم دھماکوں کی مذمت کرنے کے لیے پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے اپیل کی کہ وہ دنیا کے سامنے آئے اور بتا دے کہ وہ کسی طرح کے دھماکوں میں ملوث نہیں ہے۔ انہوں نے میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کے بیٹے کو بدنام کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم بنیاد پرست مسلمان نہیں ہیں۔ہم ہندستانی ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ ان دھماکوں میں کتنے بے گناہ مارے گئے۔جہاں کہیں بھی کچھ ہوتا ہے ہم دہل جاتے ہیں‘۔ زبیدہ نے مزید کہا کہ ان کا ان کے بیٹے کےساتھ سن دو ہزار ایک سےکوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ علیحدہ رہتا تھا۔انہیں پتہ ہے کہ ان کا بیٹا کسی بھی طرح سیمی یا کسی اور تنظیم کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کا نام توقیر نہیں عبدالسبحان ہے۔اس کے تین بچے ہیں اور سن دو ہزار چھ سے وہ وہاں سے بھی چلا گیا اس کے بعد سے اس نے اپنے بیوی بچوں سے بھی رابطہ نہیں رکھا۔ زبیدہ اس دوران باتیں کرتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کو رونے لگیں۔ زبیدہ کے وکیل مبین سولکر نے توقیر کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ عبدالسبحان کبھی کسی کیس میں پولیس کی طرف سے مطلوب نہیں تھے۔
انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ سبحان کا صفدر ناگوری یا مفتی ابوالبشر سے کوئی تعلق تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گیارہ جولائی ٹرین بم دھماکوں کے بعد جب مشتبہ افراد کی فہرست میں سبحان کا نام سامنے آیا اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے۔ اس کے بعد سے اے ٹی ایس نے ان کے گھر والوں سے تفتیش کی اور کئی افراد کو بقول ان کے غیر قانونی طور پر حراست میں بھی رکھا تھا۔ سولکر نے کہا کہ سبحان سافٹ ویئر انجینئر ہے۔اس نے تین برس ویپرو کمپنی اور بعد میں ڈیٹا پارٹس نامی کمپنی میں کچھ عرصہ کام کیا۔اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے۔ ممبئی میں شہر کی تقریباً بیس مسلم تنظیموں اور موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس نامی تنظیم نے بم دھماکوں کی مذمت کرنے کے لیے پریس کانفرنس طلب کی تھی۔ توقیر کی والدہ اسی پریس کانفرنس میں شریک ہوئی تھیں۔ پریس کانفرنس میں شریک علماء نے انڈین مجاہدین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی مسلمان کا عمل نہیں ہے۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ تنظیم دراصل مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش کے طور پر بنائی گئی ہے۔انہوں نے اس کے لیے سنگھ پریوار کو ذمہ دار قرار دیا۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ دھماکے سنگھ پریوار کے ’سازشی ذہن کا نتیجہ ہیں‘ جو دھماکے کر کے ملک میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔انہوں نے مسلم مخالف اسرائیل کی خفیہ تنظیم موساد اور سی آئی اے کا نام بھی لیا کہ وہ بھی مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے ایک عرصہ سے کام کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’پارٹی قیادت کہے تواستعفی دیدونگا‘17 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا سلامتی کے خدشات اور اس پر سیاست16 September, 2008 | انڈیا دلی بم دھماکے، ہیکنگ کا پتہ نہیں 15 September, 2008 | انڈیا دلی دھماکے: دس افراد حراست میں14 September, 2008 | انڈیا نئی دلّی دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا13 September, 2008 | انڈیا ’دلی دھماکے ایک بزدلانہ اقدام ہیں‘13 September, 2008 | انڈیا دلّی میں پانچ دھماکے، 20 ہلاک، 80 سےزائد زخمی13 September, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||