دلی دھماکے: دس افراد حراست میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی وزارتِ داخلہ نے دارالحکومت دلی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہے اور اہم مقامات پر سخت حفاظتی انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکوں کے بارے میں تفتیش کے لیے دس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ دلی میں سنیچر کو ہونے والے پانچ بم دھماکوں میں بیس افراد ہلاک اور نوے زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکے کناٹ پلیس میں پالیکا بازار اور گوپال داس بلڈنگ، قرول باغ کی غفار مارکیٹ اورگریٹر کیلاش کی ایم مارکیٹ میں ہوئے۔ سنیچر کے دھماکوں کے بعد تین مقامات سینٹرل پارک ، ریگل سنیما اور انڈیا گیٹ پر نصب بموں کو ناکارہ بنایا گیا۔ دھماکوں کے بعد ایک اعلٰی سطحی میٹنگ کی گئی جس میں صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔ ہندوستان کی صدر صدر پرتیبھا پاٹل اور وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ان دھماکوں کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیرِ داخلہ شو راج پاٹل نے قصورواروں کو سخت سزآ دینے کی بات کہی ہے۔ شیوراج پاٹل نے کہا کہ حکومت ایسے عناصر سے سختی سے نمٹے گی اور سکیورٹی ایجنسیاں جلد ہی ان دھماکوں کی تحقیقات کر کے قصورواروں کا پتہ لگائیں گی۔ انہوں نے کہا جس طرح پرہجوم علاقوں میں یہ دھماکے کیے گئے ہیں اس سے ایسا لگتا ہے کہ حملہ آوروں کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچانا تھا۔ دلی میں رام منوہر لوہیا ہاسپیٹل کے چیف ڈاکٹر ایس کے شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں لائے جانے والے زخمیوں میں پینتیس کی حالت نازک ہے۔ ادھر شہر کے لوک نایک ہسپتال میں آٹھ لوگوں کو زخمی حالت میں لایا گیا تھا جن میں دو کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتے داروں کو دلی حکومت کی جانب سے پانچ پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو پچاس ہزار روپے کا معاوضہ اور مفت علاج مہیا کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے ہلاک شدگان کے افرادِ خانہ کو تین تین لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہندوستان میں انسداد دہشتگردی سکواڈ کے ایڈیشنل پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے کہا ہے کہ دلی میں ہونے والے بم دھماکوں سے قبل انڈین مجاہدین نامی تنظیم نے تمام میڈیا ہاؤسز کو جو دھمکی بھری ای میل بھیجی تھی، وہ ممبئی سے بھیجی گئی تھی۔ ایڈیشنل پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ای میل ممبئی کے مضافاتی علاقے چیمبور سے مبینہ طور پر کامران انڈیا لمیٹڈ نامی کمپنی سے بھیجی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں دھمکی بھرا ای میل ممبئی سے:پولیس13 September, 2008 | انڈیا نئی دلّی دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا13 September, 2008 | انڈیا دلّی میں پانچ دھماکے، 20 ہلاک، 80 سےزائد زخمی13 September, 2008 | انڈیا دلی دھماکے: 55 ہلاک، ہائی الرٹ29 October, 2005 | انڈیا دھماکے،انڈین اخبارات کی رائے27 July, 2008 | انڈیا سورت میں مزید کئی بم ملے 29 July, 2008 | انڈیا احمدآباد دھماکے: آٹھ افراد گرفتار16 August, 2008 | انڈیا احمدآباد:ہلاکتیں 49، فوج کا گشت27 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||