BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 September, 2008, 13:52 GMT 18:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی بم دھماکے، ہیکنگ کا پتہ نہیں

فائل فوٹو
پولیس تفتیش میں لگی ہے لیکن ای میل کے متعلق کچھ پتہ نہیں چلا ہے

دہلی میں ہفتے کو ہونے والے دھماکوں سے قبل ’انڈین مجاہدین‘ کی جانب سے میڈیا ہاؤسز کو بھیجی گئی ای میل کے بارے میں ممبئی میں انسداد دہشت گردی عملہ ( اے ٹی ایس ) ابھی تک کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکا۔

اے ٹی ایس کے سینئر افسران ابھی تک یہ پتہ نہیں لگا سکے ہیں کہ’ کامران پاور کنٹرول پرائیوٹ لمیٹیڈ ‘ کا آئی پی ایڈریس کس طرح اور کس نے ہیک کیا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اے ٹی ایس عملے میں ایک بھی افسر سافٹ ویئر انجنیئر نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق بیشتر افسران کو کمپیوٹر کی تیکنیک اور ہیکنک سسٹم کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔

اے ٹی ایس کے جوائنٹ پولیس کمشنر ہیمنت کُرکرے نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہیکنگ کا پتہ لگانے میں ناکامی’کامران پاور کنٹرول پرائیوٹ لمیٹیڈ‘ کے جس آئی پی ایڈریس سے ای میل بھیجی گئی تھی اس میں بھی وائی فائیو سسٹم کا استعمال ہوا تھا۔ اس کی تفتیش ابھی جاری ہے لیکن ابھی تک انہیں کسی طرح کی کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

کرکرے نے اعتراف کیا کہ اس ناکامی کے بعد اب وہ NASSCOM کی مدد لیں گے۔اے ٹی ایس کے ایک سینئر افسر کے مطابق موجودہ تکنیکی دور میں پولیس افسران میں بھی ایسے سافٹ ویئر ماہرین کی ضرورت ہے اور حکومت کو اس جانب غور کرنا چاہئے۔

پولیس کو جدید ٹیکنا لوجی کے متعلق لیس ہونے کی ضرورت ہے

’انڈین مجاہدین‘ نے جس کامران کمپنی کا آئی پی ایڈریس ہیک کیا ہے اس کے دو شراکت دار ہیں۔ ایک ایم کےکامتھ Kamath اور دوسرے Randive ان دونوں کے نام کے پہلے تین حرف سے کمپنی کا نام بنا ہے کامران۔

اس سے قبل احمد آبا دھماکوں کے وقت بھی نوی ممبئی میں رہنے والے ایک امریکی شہری کینتھ ہیووڈ کی ای میل ہیک کر کے ’انڈین مجاہدین‘ نے تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات کے دفاتر میں میل کی تھی۔

پولیس نے ہیووڈ اور ان کے ساتھیوں کے لائی ڈٹیکٹر ٹیسٹ اور برین میپنگ ٹیسٹ کیے ہیں۔ کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسک فورینسک لیباریٹریز بھیجی گئیں لیکن لیکن آج تک پولیس اس کیس کو حل نہیں کر سکی ہے۔

اے ٹی ایس کو شبہ ہے کہ ’انڈین مجاہدین‘ کی جانب سے ای میل ہیک کر کے میڈیا ہاؤسز بھیجنے والا شخص سیمی کا وہی توقیر بلال عرف عبدالسبحان قریشی ہے، جو ایک نامور آئی ٹی کمپنی میں کبھی سافٹ ویئر انجینئر رہ چکا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ توقیر کمپیوٹر کے ماہر ہیں۔ اے ٹی ایس کے ساتھ ساتھ احمد آباد پولیس بھی شدت کے ساتھ توقیر کی تلاش کر رہی ہے۔ احمد آباد پولیس کا کہنا ہے کہ گجرات بم دھماکوں کا ماسٹر مائینڈ توقیر ہے جو کچھ عرصہ قبل تک سیمی کے آل انڈیا جنرل سکریٹری صفدر ناگوری کے ساتھ تھے۔

پولیس کے مطابق توقیر کا آبائی وطن رام پور ہے۔ ان کے والدین کافی عرصہ قبل ممبئی آگئے تھے۔ جنوبی ممبئی میں رہنے کے بعد اب وہ ممبئی کے مضافاتی علاقے میرا روڈ میں رہائش پذیر ہیں۔ توقیر کی دو بہنیں ہیں اور توقیر کا ایک ڈھائی سالہ بیٹا بھی ہے۔ توقیر کےگھر والوں کے مطابق وہ گزشتہ دو برسوں سےگھر سے لاپتہ ہے اور اس لیے وہ کچھ نہیں جانتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد