دلی: دھماکوں کے بعد ہائی الرٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی وزارتِ داخلہ نے دارالحکومت دلی میں سنیچر کو ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہے اور اہم مقامات پر سخت حفاظتی انتظامات کی ہدایت کی ہے۔ دھماکوں میں اب تک 21 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 97 زخمی ہیں۔ دِِلّی پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شام دلی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے سلسلے میں اسے اہم سراغ حاصل ہوئے ہیں۔ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد دِلّی پولیس کے ترجمان راجن بھگت کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس ان لوگوں کے خلاف پختہ ثبوت ملے ہیں جنہوں نے ان دھماکوں کو انجام دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے سلسلے میں اس نے بعض افراد کو حراست میں لیا اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے لیکن پولیس نے ان لوگوں کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے عین شاہدین کے بیان کی بنیاد پر مشتبہ افراد کا اسکیچ بنایا جارہا ہے اور جلد ہی یہ اسکیچ جاری کیے جائیں گے۔ پولیس کے مطابق دھماکوں کے بارے میں تفتیش کے لیے دس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ دلی میں دھماکے کناٹ پلیس میں پالیکا بازار اور گوپال داس بلڈنگ، قرول باغ کی غفار مارکیٹ اورگریٹر کیلاش کی ایم مارکیٹ میں ہوئے۔ سنیچر کے دھماکوں کے بعد تین مقامات سینٹرل پارک، ریگل سنیما اور انڈیا گیٹ پر نصب بموں کو ناکارہ بنایا گیا۔ دلی میں رام منوہر لوہیا ہاسپیٹل کے چیف ڈاکٹر ایس کے شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں لائے جانے والے زخمیوں میں پینتیس کی حالت نازک ہے۔ ادھر شہر کے لوک نایک ہسپتال میں آٹھ لوگوں کو زخمی حالت میں لایا گیا تھا جن میں دو کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتے داروں کو دلی حکومت کی جانب سے پانچ پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو پچاس ہزار روپے کا معاوضہ اور مفت علاج مہیا کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے ہلاک شدگان کے افرادِ خانہ کو تین تین لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہندوستان میں انسداد دہشتگردی سکواڈ کے ایڈیشنل پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے کہا ہے کہ دلی میں ہونے والے بم دھماکوں سے قبل انڈین مجاہدین نامی تنظیم نے تمام میڈیا ہاؤسز کو جو دھمکی بھری ای میل بھیجی تھی، وہ ممبئی سے بھیجی گئی تھی۔ ایڈیشنل پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ای میل ممبئی کے مضافاتی علاقے چیمبور سے مبینہ طور پر کامران انڈیا لمیٹڈ نامی کمپنی سے بھیجی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں دھمکی بھرا ای میل ممبئی سے:پولیس13 September, 2008 | انڈیا نئی دلّی دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا13 September, 2008 | انڈیا دلّی میں پانچ دھماکے، 20 ہلاک، 80 سےزائد زخمی13 September, 2008 | انڈیا دلی دھماکے: 55 ہلاک، ہائی الرٹ29 October, 2005 | انڈیا دھماکے،انڈین اخبارات کی رائے27 July, 2008 | انڈیا سورت میں مزید کئی بم ملے 29 July, 2008 | انڈیا احمدآباد دھماکے: آٹھ افراد گرفتار16 August, 2008 | انڈیا احمدآباد:ہلاکتیں 49، فوج کا گشت27 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||