مالیگاؤں، سادھوی کی عدالتی حراست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناسک کی ایک عدالت نے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور ان کے دو ساتھی شام لال ساہو اور شیو نارائن سنگھ کو سترہ نومبر تک عدالتی حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ممبئی کے انسداد دہشت گردی عملے (ایے ٹی ایس) نے انہیں مالیگاؤں بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ عدالت میں اے ٹی ایس نے سادھوی کی حراست کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سادھوی کا نارکو ٹیسٹ کرنا ہے۔اسی کے ساتھ عدالت میں اے ٹی ایس نے سادھوی اور رام جی کے درمیان ہوئی بات چیت کا ٹیپ پیش کیا۔اے ٹی ایس کے پاس سادھوی کا رام جی اور دیگر ملزمان کے ساتھ مبینہ گفتگو کا لمبا ٹیپ موجود ہے جس میں سے پولیس نے محض تیس سیکنڈ کا ٹیپ پیش کیا۔ ناسک عدالت میں سادھوی کے علاوہ مزید تین ملزمان کو بھی پیش کیا گیا جنہیں اے ٹی ایس نے گزشتہ شب گرفتار کیا تھا۔اے ٹی ایس ذرائع کے مطابق یہ تینوں انتہائی اہم ملزم ہیں جنہوں نے دھماکے میں بھر پور تعاون کیا تھا۔ عدالت نے انہیں دس نومبر تک پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔ جب سادھوی کو ممبئی اے ٹی ایس عملہ ناسک لے کر پہنچا تو وہاں پہلے سے شیوسینا اور ابھینو بھارت تنظیم کے ہزارہا اراکین موجود تھے۔ وہ سادھوی اور ہندوؤں کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ان کے ہاتھوں میں بینر اور پوسٹرز تھے جن پر لکھا تھا کہ ’ فخر سے کہو ہم ہندو ہیں۔‘ پولیس نے عدالت کے اطراف دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی تھی۔جس کے تحت چار سے زائد افراد ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ اس دوران عدالت میں پولیس نے سادھوی کی مزید پولیس حراست کا مطالبہ کیا۔عدالت میں جج کے سوال کرنے پر سادھوی نے کہا کہ ’ وہ انصاف ملنے کے بعد ہی اپنی خاموشی توڑیں گی۔‘ سادھوی کے بارے میں اے ٹی ایس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ گرفتاری کے بعد سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پولیس نے اب تک ان کا پولی گراف ، برین میپنگ اور لائی ڈٹیکٹر ٹیسٹ کر لیے ہیں۔ اے ٹی ایس کے مطابق انہو ں نے گزشتہ شب جن تین مشتبہ افراد اجے راہیرکر راکیش دھوارے اور مہاترے کو گرفتار کیا ہے ان تینوں ملزمان نے مبینہ طور پر بم دھماکے کے لیے اہم ملزمان کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ ان میں سے دو ابھنیو بھارت نامی تنظیم کے ممبران ہیں جو سخت گیر ہندو موقف والی تنظیم ہے اور جس کے سادھوی پرگیہ اور سمیر کلکرنی بھی ممبر ہیں۔ مالیگاؤں بم دھماکے میں گرفتار کی گئی سادھوی پرگیہ اور ان کے ساتھیوں کی اب ملک کی تقریبا تمام ہندو سخت گیر تنظیموں نے کھل کر حمایت شروع کر دی ہے۔ دو روز قبل مہاراشٹر کی علاقائی سیاسی جماعت شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے اپنے ترجمان اخبار ’ سامنا‘ میں لکھا کہ وہ کھل کر سادھوی کی حمایت کرتے ہیں اور ملک کی ہر ہندو تنظیم کو ان کی حمایت کرنی چاہئے اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی سادھوی کی قانونی مدد کے لیے تیار ہے۔ شیوسینا کے بعد آر ایس ایس، ہندو مہاسبھا، بی جے پی کی طلباء ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی کھل کر سادھوی کی حمایت شروع کردی ہے۔آر ایس ایس نے بھی شیوسینا کی طرح سادھوی اور ان کے ساتھیوں کے لیے قانونی مدد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ بی جے پی کے پارٹی ترجمان روی شنکر پرساد نے اسی سلسلہ میں پریس کانفرنس طلب کر لی جس میں انہوں نے سادھوی کی کھل کر حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک سادھوی کے تینوں ٹیسٹ ہو چکے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی پختہ ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ پرساد نے اے ٹی ایس کی تفتیش پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔اس سے قبل پارٹی کے قومی صدر راج ناتھ سنگھ بھی سادھوی کی حمایت کر چکے ہیں۔ ہندو سخت گیر تنظیموں کا ماننا ہے کہ سادھوی کو پھنسایا جارہا ہے۔ | اسی بارے میں دھماکے: سابق فوجیوں سے تفتیش26 October, 2008 | انڈیا مالیگاؤں: سابق میجر کا ریمانڈ29 October, 2008 | انڈیا دھماکے: پندرہ مسلم نوجوان گرفتار 07 October, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||