کرنل پروہت، سی بی آئی کی تفتیش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق نئی دہلی سے تفتیشی ایجنسی سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی) اور انٹیلی جنس بیورو افسران نے جمعہ کے روز اینٹی ٹیررازم سکواڈ (اے ٹی ایس ) کے دفتر میں مالیگاؤں بم دھماکہ کے ملزمان سے ناندیڑ بم دھماکہ کے سلسلہ میں تفتیش کی۔ چھ اپریل کو ناندیڑ میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس رکن لکشمن راج کونڈوار کے گھر میں بم بناتے ہوئے دو افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جن میں ایک لکشمن کا بیٹا نریش اوردوسرا ہیمانشو وینکٹیش ہلاک اور دیگر چار افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ سی بی آئی نے نادیڑ بم دھماکے کے سلسلہ میں تفتیش کی لیکن آئی بی اے ٹی ایس کے ساتھ متوازی طور پر مالیگاؤں بم دھماکہ کی تفتیش کر رہی ہے کیونکہ اس میں اب فوج کے موجودہ کرنل کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ اے ٹی ایس اعلی افسران اس پورے معاملہ میں خاموشی برت رہے ہیں۔ تاہم اے ٹی ایس کے ہی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ لیفٹینینٹ کرنل سری کانت پرساد پروہت سے تفتیش کے بعد اب مزید تین فوجی افسران شک کے گھیرے میں ہیں۔ان میں ایک کرنل مہاراشٹر کے ہی علاقے دیولالی میں پوسٹنگ پر ہیں۔ دوسرے کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ مدھیہ پردیش کے ہیں۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ ایک سابق لیفٹینٹ جرنل بھی شک کے گھیرے میں ہیں جن سے اے ٹی ایس تفتیش کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ اے ٹی ایس کی سابق میجر رمیش اپادھیائے اور کرنل پروہت سے تفتیش کے دوران ان فوجیوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ میجر اپادھیائے اور پروہت اس وقت اے ٹی ایس کی حراست میں ہیں ان پر مالیگاؤں بم دھماکے کی سازش رچنے اور ملزمین کو بم بنانے کی تربیت دینے جیسے الزامات عائد ہیں۔ اے ٹی ایس کی ایک ٹیم اس وقت پونے، اورنگ آباد ، احمد نگر پربھنی اور ناسک ملٹی انٹلی جنس ریکارڈ کی جانچ کر رہی ہے۔ اے ٹی ایس اس بات پر نظر رکھ رہی ہے کہ کرنل پروہت جب ناسک میں ملٹری انٹیلی جنس کے لیے شدت پسندوں کی تفصیلات جمع کر رہے تھے اس وقت ان کی ملاقات فوج کے کن افسران سے ہوئی تھی اور ان کا کیا مالیگاؤں بم دھماکہ کے کسی ملزم سے تو رابطہ قائم نہیں ہوا تھا۔ اے ٹی ایس نے ملٹری ہیڈکوارٹ کو مطلع کیا ہے کہ وہ کرنل پروہت کا وہ لیپ ٹاپ تلاش کریں جو ان کی گرفتاری کے بعد ان کے کمرے سے غائب ہو چکا ہے۔اے ٹی ایس کا ماننا ہے کہ اس لیپ ٹاپ میں اہم معلومات ہوں گی جس سے کیس کو حل کرنے اور ثبوت اکٹھا کرنے میں مدد ملے گی۔ | اسی بارے میں مالیگاؤں: ملٹری سکول پر شک01 November, 2008 | انڈیا مالیگاؤں، سادھوی کی عدالتی حراست03 November, 2008 | انڈیا مالیگاؤں دھماکہ، فوجی کرنل گرفتار05 November, 2008 | انڈیا فوجی کی گرفتاری پر تفتیش: اینٹونی07 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||