BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 December, 2008, 17:05 GMT 22:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دستی بم ’پاکستانی‘ کمپنی کے ہیں

ممبئی حملے
چھبیس نومبر کو شروع ہونے حملوں میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا
ممبئی کرائم برانچ کے جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا نے آج پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ ممبئی حملوں میں شدت پسندوں نے جو دستی بم استعمال کیے تھے وہ آسٹریائی کمپنی ’ آرجیس‘ کے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس کمپنی نے وہ بم اب بنانے بند کر دیے ہیں لیکن اس کی ایک فرینچائز کمپنی پاکستان میں ہے۔ ماریا کے مطابق یہ وہی دستی بم ہیں جنہیں انیس سو ترانوے کے بم دھماکوں کے دوران استعمال کیا گیا تھا۔

ماریا کے مطابق جو نائن ایم ایم پستول استعمال ہوا وہ مبینہ طور پر پشاور کی ایک فیکٹری ڈائمنڈ پنڈی آرمز میں بنائے گئے تھے۔ ماریا نے البتہ کہا کہ وہ اے کے 47 پر درج نمبروں سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بندوقیں کہاں اور کس ملک سے لائی گئی تھیں۔

ممبئی کرائم برانچ گرفتار شدت پسند اجمل امیر قصاب سے تفتیش کر رہی ہے۔ماریا کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش اجمل نے بتایا کہ ذکی الرحمن لکھوی ، حافظ سعید، ابو حمزہ اور کافا یہ چار اہم نام لشکر طیبہ کے اراکین کے ہیں جنہوں نے اسے اور ان کے ساتھیوں کو مختلف مراحل میں تربیت دی۔اجمل نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا کہ الحسینی جہاز لشکر طیبہ کا جہاز ہے۔

اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ حملوں کے دوران شدت پسندوں نے سیٹیلائٹ فون کے ذریعہ کس سے بات کی

ممبئی کرائم برانچ شدت پسندوں کو دیے جانے والے مقامی افراد کے تعاون کی بھی جانچ کر رہی ہے اور اس کے علاوہ اس بات کی بھی تفتیش جاری ہے کہ مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم کا ان حملوں میں کتنا ہاتھ ہے۔انہیں مالی امداد کہاں سے فراہم کی گئی اور حملوں کے دوران شدت پسندوں نے سیٹیلائٹ فون کے ذریعہ کس سے بات کی۔

اجمل امیر قصاب کو آج عدالت میں پیش کیا جانا تھا لیکن حفاظتی نکتہ نظر سے مجسٹریٹ کو کرائم برانچ آنے کی درخواست دی گئی تھی۔ چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ این این وانگلے کرائم برانچ آئے۔

سرکاری وکیل ایکناتھ دھمال نے بتایا کہ اجمل کے چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے۔جج نے اجمل کو آزاد میدان پولیس سٹیشن میں درج کیس میں چوبیس دسمبر تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

اجمل اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل پر کاما ہسپتال کے پاس آٹھ پولیس اہلکاروں کوہلاک کرنے کا الزام ہے۔ ان میں اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے ، ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک کامٹی، انکاؤنٹر کے ماہر وجے سالسکر اور دیگر پولیس کانسٹیبل شامل ہیں۔

اجمل کے خلاف پولیس نے قتل، اقدام قتل، اسلحہ قانون، دھماکہ خیز اشیاء کے قانون اور ملک کے خلاف جنگ جیسے الزامات کے تحت کیس درج کیے گئے ہیں۔

ماریا کے مطابق اجمل کی صحت ٹھیک ہے۔قانونی ضابطوں کے مطابق ہر اڑتالیس گھنٹوں کے بعد اجمل کی طبی جانچ ہوتی ہے۔ماریا نے یہ بھی کہا ہے کہ دو ایک روز میں اجمل کو قانونی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔ویسے قلعہ کورٹ میں وکلاء کی تنظیم نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بھی وکیل اجمل کا کیس نہیں لڑے گا۔

اجمل امیر قصاباجمل کا ’اقبالی بیان‘
ممبئی حملوں میں بچ جانے والے ملزم کا بیان
ممبئیبھارتی خفیہ ایجنسیاں
پورا نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے
 مارک ٹلیمارک ٹلی کہتے ہیں
جہاز ہچکولے کھاتا رہتا ہے مگر ڈوبتا نہیں
ہند - پاک کشیدگی
ممبئی حملوں کے بعد ہند پاک رشتے کشیدہ
سنیل یادوحملوں کی دہشت
’موت کو دیکھا پھراس کے منہ سے باہرنکلے‘
حملہ آورصرف شہرت کے لیے؟
کیا حملہ آوروں کو صرف شہرت کی تلاش تھی؟
اسی بارے میں
بھارت میں ملا جلا ردِ عمل
11 December, 2008 | انڈیا
’سب کا تعلق پاکستان سے‘
09 December, 2008 | انڈیا
وزیر اعلی دیشمکھ مستعفی
04 December, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد