BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 December, 2008, 08:47 GMT 13:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیر اعلی دیشمکھ مستعفی

دیشمکھ
وزیر اعلٰی دیشمکھ پر استعفا دینے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا
مہاراشٹر کے وزیر اعلی ولاس راؤ دیشمکھ نے جمعرات کی صبح اپنا استعفا گورنر ایس سی جامیر کو سونپ دیا اور نئے وزیر اعلی کے انتخاب کے لیے دوپہر بعد کانگریس کے سینئر رہنماؤں اے کے انٹونی اور پرنب مکھرجی کی موجودگی میں میٹنگ ہوگی۔

ولاس راؤ دیشمکھ نے ممبئی پر حملوں کے بعد اپنا استعفا کانگریس ورکنگ کمیٹی کے حوالے کر دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بدھ کی رات کانگریس ورکنگ کمیٹی کی صدر سونیا گاندھی نے ممبران سے میٹنگ کے بعد دیشمکھ کا استعفی منظور کر لیا تھا۔

فی الحال وزیر اعلی کی کرسی کی دوڑ میں چار نام سامنے آئے ہیں جن میں سشیل کمار شنڈے، پرتھوی راج چوہان ، نارائن رانے اور وکھے پاٹل شامل ہیں۔ سشیل کمار شنڈے ایک غیر متنازعہ لیڈر رہے ہیں۔ ان کا تعلق پسماندہ طبقات سے ہے اس لیے آئندہ انتخابات کے پیش نظر انہیں وزیر اعلی بنائے جانے کے امکانات اچھے مانے جا رہے ہیں۔

لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اس وقت ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو موجودہ حالات پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس کے لیے نارائن رانے کا نام لیا جا سکتا ہے۔

لیکن رانے شیوسینا سے کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے ہیں اور کانگریس میں اندرونی طور پر کافی لوگ ان سے ناراض بتائے جاتے ہیں۔ پرانے کانگریسی لیڈر نہیں چاہتے کہ رانے کو وزیراعلی بنایا جائے۔اس کے عالوہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نیشنلسٹ پارٹی کے صدر شردپوار بھی رانے کے مخالف ہیں۔

رانے کا وزیراعلی ولاس راؤ سے ہمیشہ تنازعہ رہا تھا لیکن آج وہ ان سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر گئے۔ قیاس آرائیاں یہ ہیں کہ وہ مسٹر دیشمکھ سے اپنے اختلافات ختم کر کے کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔

تیسرے لیڈر پرتھوی راج چوہان ہیں جو مراٹھا لیڈر ہیں اور این سی پی انہیں وزیر اعلی کے عہدے پر دیکھنا پسند نہیں کرے گی کیونکہ پوار کا مراٹھا لابی پر ہولڈ ہے اور وہ اپنے لیے کوئی نیا چیلنج نہیں دیکھنا چاہیں گے۔

چوتھے امیدوار وکھے پاٹل پرانےکانگریسی لیڈر تھے جو کچھ وقت کے لیے شیوسینا میں شامل ہوئے تھے لیکن کانگریس میں رانے کی شمولیت کے ساتھ ہی وہ بھی کانگریس میں لوٹ آئے تھے۔اس کے علاوہ وہ کوآپریٹیو تحریک کے لیڈر بھی ہیں۔

ممبئی کے حملوں کے بعد مرکزی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل اور مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر ر پاٹل بھی مستعفی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
چدمبرم نئے وزیر داخلہ
30 November, 2008 | انڈیا
ناری من ہاؤس کا ہیرو حنیف
01 December, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد