دہشت گردی کی روک تھام کے نئے اقدامات، ریاستی وزیر بھی مستعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ممبئی حملوں کے بعد دہشتگردی کی روک تھام کے لیے نئے اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بدھ کی رات شروع کیے گئے ان حملوں میں کم سے کم ایک سو اسی افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں غیرملکی شہری بھی شامل ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے حملوں کے بعد کی صورتحال پر غور کے لیے ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا تھا۔ ’ہم نے اپنی بحری اور فضائی حفاظت کو مضبوط کرنے کے لیے مزید اقدامات کر دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں نیوی، کوسٹ گارڈ، کوسٹل پولیس، فضائیہ اور شہری ہوابازی کی وزارت شامل ہوگی۔ انسدادِ دہشتگردی فورسز کو مزید مربوط اور مضبوط بنایا جائے گا۔ قانونی اقدامات میں وفاقی سطح پر ایک تحقیقاتی ادارے کا قیام بھی شامل ہے۔‘ وزیر اعظم نے کہا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ہم سب لوگوں کو وقتی مفاد سے بالاتر ہوکراس نازک موقع پر مل کر کام کرنا ہوگا۔ ’ہمیں جو بھی کرنا ہے، اس پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا تاکہ خطرات کے مقابلے کے لیے ہم مضبوط دفاع قائم کرسکیں۔ دہشت گردوں اور ہمارے دشمنوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے اقدامات ہمیں بانٹنے کے بجائے متحد کرتے ہیں۔‘ دوسری طرف بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل اور سلامتی کے امور کے مرکزی مشیر پہلے ہی اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ہندوستان کے نائب وزیر خارجہ شکیل احمد نے کہا ہے کہ اب یہ بات طے ہے کہ ممبئی میں مختلف مقامات پر حملے کرنے والے افراد میں سے تقریباً سبھی کا تعلق پاکستان سے تھا۔ نائب وزیر داخلہ شکیل احمد نےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کو ایک پاکستانی جزیرے پر تربیت فراہم کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق جس ایک حملہ آور کو گرفتار کیا گیا ہے، اس نے اپنا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا ہے لیکن سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حملوں کے فوراً بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم من موہن سنگھ نےکہا تھا کہ ان حملوں کی کڑیاں پاکستان تک جاتی ہیں۔ مسٹر شکیل احمد نے اعتراف کیا کہ مہارشٹر کی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان تال میل کی کمی رہی۔ واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر نے بھارتی وزیر داخلہ کے بیان پر اپنے ردعمل میں ایک امریکی چینل کو بتایا کہ یہ ان کے ملک پر الزام تراشی کا وقت نہیں ہے۔ ’میرے خیال میں یہ اس کا وقت نہیں کہ بھارت یا کوئی اور بھارت پر الزام لگائے۔ بلکہ یہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا وقت ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں جمہوری ملک ہیں۔ اور اسی ناطے ہمیں ایک دوسرے کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ دہشتگردوں کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوں۔‘
ادھر، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہانگ کانگ کا اپنا چار روزہ سرکاری دورہ منسوخ کر دیا ہے اور ممبئی میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں کانفرس برائے قومی سلامتی منگل کے روز طلب کی ہے۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے پریس سیکرٹری زاہد بشیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم سیدیوسف رضا گیلانی نے کانفرس برائے قومی سلامتی منگل کی دوپہر ڈھائی بجے وزیر اعظم ہاوس میں طلب کی ہے ۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہانگ کانگ میں ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی جس کا اہتمام امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کی قائم کردہ غیر سرکاری تنظیم کلنٹن فاؤنڈیشن نے کیا ہے۔ اس صورتحال کے پس منظر میں وزیراعظم گیلانی نے ہفتے کی شب ملکی کی اہم سیاسی قیادت کو ٹیلی فون کر کے اس تمام صورتحال کے بارے میں اعتماد میں لیا تھا۔ وزیراعظم نے رات گئے اپنے چینی ہم منصب کو بھی فون کیا تھا جس میں بھارتی ممکنہ عزائم کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ سنیچر کو پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ انڈیا کی جانب سے ممبئی کے شدت پسند حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد پڑوسی ملک کے اس کے تعلقات شدید تناؤ میں ہیں۔ حکومت پاکستان نے ممبئی میں گزشتہ چار روز کے دوران مسلح ہتھیار بندوں کی طرف سے ممبئی کے اہم مقامات پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے جن میں ایک سو اسی کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔ ممبئی میں شدت پسند حملوں کے تقریباً اٹھاون گھنٹوں کے بعد سنیچر کی صبح تاج ہوٹل میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین شدت پسندوں کے مارے جانے اور آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیاگیا۔ سنیچر کی شام کو صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران پاکستان کی ایک سیکورٹی ایجنسی کے اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے ابتدائی ثبوت پاکستان کو پیش کر دیے انہوں نے کہا تھا کہ اگر بھارت نے اپنی فوجیں سرحدوں پر بھیجیں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا دے گا۔ جب اعلیٰ سکیورٹی اہلکار سے پوچھا کہ ایسی صورت میں افغان سرحد کا کیا بنے گا تو انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تناؤ کی صورت میں اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو قبائلی خود سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔ اسی تناظر میں صدر بش نے ممبئی حملوں کے سلسلے میں حکومت اور عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے وزیر خارجہ انڈولیزا رائس کو انڈیا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں موجود تناؤ کو کم کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ سے رابطے میں ہیں اور ان کے انڈیا کے حکام سے ملاقاتوں میں یہ معاملہ سرفہرست رہے گا۔
|
اسی بارے میں ممبئی میں حملے اور پاکستان کافریدکوٹ30 November, 2008 | پاکستان ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا ہیمنت کر کرے کون تھے29 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||