BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 November, 2008, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چدمبرم نئے وزیر داخلہ

 پی چدمبرم
ملک میں شدت پسند کے بڑھتے واقعات کے بعد شوراج پاٹل پر عہدہ چھوڑنے کے لیے دباؤ‎ بڑھ رہے تھے
ممبئی میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد شوراج پاٹل کے استعفے کے بعد پی چدمبرم کو وزیر داخلہ بنا دیا گیا۔ قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائن نے بھی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اور میڈیا انچارج ورپن موئیلی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیر داخلہ نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ اخلاقی ذمہ داری کے تحت کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ شوراج پاٹل نے اپنا استعفی وزیراعظم کو سونپ دیا ہے۔

مسٹر نارائنن نے بھی اپنا استعفٰی وزیر اعظم کو سونپ دیا تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا استعفیٰ منظور کیا گیا ہے یا نہیں۔

وزیراعظم منموہن سنگھ نے اتوار کو دلی میں ایک آل پارٹی میٹنگ طلب کی ہے اور اس میٹنگ سے پہلے شوراج پاٹل کے استعفی کی خبر آئی ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کی رات کانگریس ورکنگ کمیٹی کی ایک میٹنگ میں پارٹی کےرہنماؤں نے جس طرح سے شوراج پاٹل سے ناراضگی جتائی تھی اس سے بھی ان پر استعفی دینے کا دبا‎ؤ بڑھ گیا تھا۔

خیال ہے کہ اسی طرح کا دبا‎‎ؤ مہاراشٹر کے وزیراعلی ولاس راؤ دیشمکھ اور ریاست کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل پر بھی ہے۔

شوراج پاٹل کے استعفی پر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ شوراج پاٹل کا استعفی دینا کافی نہیں ہے حملوں کی اخلاقی ذمہ داری یو پی اے حکومت کو لینی چاہیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان پرکاش جواڈریکر نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ ’یو پی اے حکومت کو اخلاقی ذمہ داری کے تحت حکومت چھوڑ دینی چاہیے۔ ‘

وزیر داخلہ شوراج پاٹل پر ملک میں ہوئے گزشتہ کئی بم دھماکوں، شدت پسندی کے بڑھتے واقعات کے بعد شدت پسندی سے نمٹنے میں ناکام ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت تمام سیاسی حلقوں اور میڈیا کی جانب سے ان پر عہدہ چھوڑنے کے لیے دبا‎ؤ بڑھ گیا تھا۔

ممبئی میں 26 نومبر کی رات سے شروع شدت پسندوں کے حملے سنیچر کو ا س وقت ختم ہوئے جب این ایس جی کمانڈوز اور سیکورٹی اہلکاروں نے تاج ہوٹل کو شدت پسندوں کے قبضوں سے آزاد کرالیا تھا۔

ان حملوں میں کم از کم 195 افراد ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں سیکورٹی اہلکاروں کے علاوہ بیرونی ممالک کے افراد بھی شامل ہیں۔

برطانوی ارب پتی
ہلاک ہونے سے کچھ دیر قبل انٹرویو
ممبئی حملے
ممبئی میں فائرنگ : تصاویر
آنکھوں دیکھا حال
’ٹکٹ لینے گیا تھا کے فائرنگ شروع ہو گئی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد