BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 December, 2008, 09:55 GMT 14:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت میں ملا جلا ردِ عمل
ممبئی حملہ
کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ’رہنما‘ حافظ سعید سمیت چار افراد کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ’رہنما‘ حافظ سعید سمیت چار افراد پر پابندیاں عائد کیے جانے پر ہندوستان کا رد عمل ملا جلا رہا ہے۔

چھبیس نومبر کو ممبئی پر ہوئے حملے کے سلسلے میں پارلیمنٹ میں بحث کے دوران وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے ایک بیان میں کہا’مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اقوام متحدہ نےجماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کر دی ہے۔‘

حکمراں جماعت کانگریس کے رہنما اور مرکزي وزیر مملکت برائے خارجہ امور شکیل احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا ’ یہ ایک صحیح قدم ہے لیکن ہم اس حق میں نہيں ہے کہ بات اس پر ہی ختم ہو جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ جو لوگ ان حملوں کے لیے ذمے دار ہیں اورجنہوں نے ہمارے خلاف پاکستان کی زمین کا استعمال کیا ہے ان کی ذمے داری طے کر کے انہیں سزادی جانی چاہیے۔‘

بی جے پی کا موقف
 مجھے سلامتی کونسل کا نام سن کر ڈر لگتا ہے۔ کیونکہ کشمیر کا تجربہ ہمیں بھولنا نہیں چاہیے۔ اگر ہم یہ امید کریں کہ سلامتی کونسل ہمیں بچائے گی تو یہ غلط ہے۔ یہ مسئلہ ہم کو ہی حل کرنا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل میں کیا ہوا ہے یہ سب کو یاد ہے ۔ جموں کشمیر کا مسئلہ بھی اگر اپنے زور پر حل کر لیا گیا ہوتا تو اب تک وہ اس کا حل نکل آتا۔ اس لیے سلامتی کونسل میں جانے کی دوبارہ غلطی نہیں کرنی چاہیے
لال کرشن اڈوانی۔ بی جے پی رہنما

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کی جانب سے مطلوبہ افراد کی فہرست کے بعد اس نے اپنا موقف سامنے رکھ دیا ہے۔’اب آگے کیا ہوگا یہ تو مستقبل ہی طے کرے گا۔‘

پارلیمنٹ میں بحث کے دوران ہی حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی کے رہنما لال کرشن اڈوانی کا کہنا تھا ’ مجھے سلامتی کونسل کا نام سن کر ڈر لگتا ہے۔ کیونکہ کشمیر کا تجربہ ہمیں بھولنا نہیں چاہیے۔ ہم امید کریں کہ سلامتی کونسل ہم کو بچائے گی تو وہ غلط ہے۔ یہ مسئلہ ہم کو ہی حل کرنا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل میں کیا ہوا ہے یہ سب کو یاد ہے ۔ جموں کشمیر کا مسئلہ بھی اگر اپنے زور پر حل کر لیا گیا ہوتا تو اب تک وہ اس کا حل نکل آتا۔ اس لیے سلامتی کونسل میں جانے کی دوبارہ غلطی نہیں کرنی چاہیے۔‘

بحث کے دوران مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما محمد سلیم نے حکومت کی جانب سے سکیورٹی کونسل کا رخ کرنے کی ستائش کی اور کہا ’نائن الیون کے بعد جو قرار داد منظور کی گئی تھی اس کے مطابق اقوام متحدہ کا کوئی بھی رکن ملک اگر دوسرے ملک پر حملہ کرنے کے لیے دہشتگرد عناصر کو اپنی سر زمین استعمال کرنے دیتا ہے تو اس ملک کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد دنیا کے تمام ملک دہشتگردی کے خلاف لڑنے کے لیے کاغذی طور ہی پابند ہیں اور’جب ہندوستان حملے کا شکار ہوتا ہے تو اسے پوری دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ قرار دار محض کاغذ پر ہی نہ رہے بلکہ اس پر عمل بھی کیا جائے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد