BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 December, 2008, 12:42 GMT 17:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قابل عمل‘اطلاع نہیں ملی:بحریہ
سریش مہتہ
حملہ آوروں کے ممبئی میں داخل ہونا سکیورٹی اور انٹیلیجنس ’نظام کی ناکامی ہے: نیوی سربراہ
ہندوستان کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سریش مہتہ نے کہا ہے کہ بحریہ کے پاس ممبئی حملوں سے متعلق عمومی نوعیت کی معلومات تھی لیکن ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی جس پر قدم اٹھایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا ’حالانکہ سکیورٹی فورسز اور خفیہ ادارے خفیہ اطلاعات کا تبادلہ کرتے ہیں لیکن ضروری یہ ہے کہ جو اطلاعات فراہم کی جائے اس پر کارروائی کرنا ممکن ہو۔‘

حملہ آوروں کے ممبئی میں داخل ہونے کو انہوں نے ملک کی سکیورٹی اور انٹیلیجنس ’نظام کی ناکامی‘ قرار دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں 1.5 لاکھ ٹراؤلز رجسٹرڈ ہیں اور صرف گجرات اور مہاراشٹر میں ہی ایک تہائی ٹرائلرز رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ممبئی میں رجسٹرڈ ٹراؤلر کی تعداد 15000 ہزار ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اس سے یہ ظاہر ہے کہ ہر روز تقریباً پانچ ہزار افراد روزانہ ممبئی آتے جاتے ہیں۔ اس درمیان پاکستان کشتیوں کی تلاش کی جا سکتی ہے لیکن اس وقت کیا کیا جا سکتا ہے جب کوئی آپ کی ہی کشتی پر سوار ہو۔‘

اس سے قبل امریکی ذرائع ابلاغ نے نام ظاہر نہ کرنے والے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے یہ خبر جاری کی تھا کہ امریکہ نے بھارت کو ایک ماہ قبل ممبئی میں گزشتہ ہفتے ہونے والے ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا۔

پولیس کے مطابق چھبیس نومبر کو ممبئی پر حملوں کے حملہ آور سمندر کے راستے ممبئی میں داخل ہوئے تھے۔

اس قسم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ پاکستان کے کراچی شہر سے شروع ہو کر ایک کشتی ہندوستان کے پوربندر شہر میں رکی اور پھر وہاں سے ایک گجراتی کشتی سے ممبئی تک آئی۔

قبرستان بھی تنگ
دہشتگردوں کی قبر کی جگہ نہیں: مسلم کونسل
وار زون ناری من۔۔
ناری من ہاؤس: رہائشیوں پر کیاگزی
سنیل یادوحملوں کی دہشت
’موت کو دیکھا پھراس کے منہ سے باہرنکلے‘
 وزیر داخلہ آر آر پاٹل دھماکے، ماہی گیر
’ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل کو آگاہی تھی‘
حملہ آورصرف شہرت کے لیے؟
کیا حملہ آوروں کو صرف شہرت کی تلاش تھی؟
دھماکوں کے بعد
خراج عقیدت، امن کی امیدیں
میڈیا، پولیس کردار
پولیس اور میڈیا کا رویہ ایک جیسا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد