 | | | پندرکر اس رات نائٹ ڈیوٹی پر تھے |
سدم ابا پندرکر ان سپاہیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ممبئی پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں سے مقابلہ کیا اور اب وہ ہسپتال میں زیر اعلاج ہیں۔ پندرکر نے چھترپتی شواجی ٹرمنل پر اپنی تھری ناٹ تھری رائفل کی مدد سے ان شدت پسندوں سے مقابلہ کیا۔ ریلوے پولیس میں اے ایس آئی پندرکے مطابق اس رات وہ نائٹ ڈیوٹی پر تھے۔ ’مجھے پیٹرولنگ کی ڈیوٹی پر لگایا گیا تھا اس لیے میں گشت پر تھا۔‘ میں نے دیکھا کہ دو نوجوان مسلح افراد جن میں ایک لمبے قد کا تھا، لوگوں کو بے رحمی سے آٹومیٹک رائفل سے نشانہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ انہوں نے پہلے مین لائن کی طرف گولی چلائی، پھر اس کے بعد لوکل لائن کی طرف جاکر لوگوں پر فائرنگ کر دی۔ ’ہمارے ایک اہلکار نے فورا ہم لوگوں سے کہا کہ مجھے ان لوگوں کر روکنے کے لیے دو تین لوگ چاہئیں، میں اپنی ایک تھری ناٹ تھری رائفل اور پانچ راؤنڈ گولیوں کے سہارے حملہ آوروں کو روکنے چل دیا۔‘ میں نے اپنی رائفل سے ان لوگوں پرتین راؤنڈ فائر کیے، اس کے بعد ميں پلیٹ فارم سات کی طرف بڑھا جہاں یہ لوگ موجود تھے۔
 |  میں نے سوچا جتنی تیاری اور سامان میرے پاس ہے اس سے کچھ لوگوں کی جانیں تو بچ ہی جائيں گی  پندرکر |
میں ابھی پلیٹ فارم پر پہنچ کر باقی دو راؤنڈ سے روکنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ اسی وقت چھوٹے قد والا نوجوان میرے قریب آ گیا۔ میں رائفل ميں گولی بھر ہی رہا تھا کہ اس نے کافی نزدیک آکر مجھے اپنی رائفل سے گولی مار دی۔ گولی میرے کندھے کے نیچے سینے پر لگی۔ انہیں شاید لگا ہو کہ اس گولی کے بعد میں اب زندہ نہيں بچوں گا ، لیکن گولی میرے جسم کو چیرتی ہوئی باہر چلی گئی۔ پندرکر کو اس بات کا افسوس ہے کہ اگر حملہ آوروں کی طرح ان کے پاس بھی جدید ترین رائفل ہوتی تو وہ فوراً کارروائی شروع کر سکتے تھے۔ پرانی رائفل میں راؤنڈ بھرنے اور خالی کرنے میں جتنا وقت لگتا ہے اتنے وقت میں حملہ آوروں کے لیے کئی راؤنڈ فارنگ کرنا ممکن تھا۔ تو پھر کیا سوچ کر شدت پسندوں سے مقابلہ کیا ؟ اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں’میں نے سوچا جتنی تیاری اور سامان میرے پاس ہے اس سے کچھ لوگوں کی جانیں تو بچ ہی جائيں گی۔‘ |