BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 December, 2008, 14:05 GMT 19:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہتر سکیورٹی نظام، بل منظور ہوگیا

ریاستی پولیس کے کمانڈو دستوں کی تربیت کے لیے مختلف صوبوں ميں بیس انسدادِ دہشتگردی سکول کھولنے کی بھی تجویز ہے۔
ممبئی حملوں کے بعد بھارتی حکومت نے دہشت گردی کا موثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے مشتبہ افراد کی تحویل کی مدت میں توسیع کرنے، خصوصی عدالتیں قا‏‏ئم کرنے اور ایک قومی تفتیشی ادارے کے قیام سمیت کئی اہم اقدامات کے لیے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے انسدادِ دہشت گردی کے دو بلوں میں منظوری دی ہے۔

دہشت گردی پر قابو پانے سے متعلق پارلیمنٹ میں ان دو بلوں کی تفصیل پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا ’ایک قومی تفتیشی ادارہ یعنی این آئی اے قائم کیا جائے گا جو دہشت گردی کی نوعیت کے اعتبار سے صوبوں میں واقعات کی تفتیش کر سکے گا۔‘

ان بلوں میں خصوصی عدالتوں کے قیام کی بات کی گئی ہے جن کے جج ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر کریں گے۔ یہ عدالتیں روزانہ کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت کریں گی ۔ اون کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ میں اپیل کی جا سکے گی جس کا فیصلہ تین مہینے کے اندر ہو گا۔

دوسرا بل ایک ترمیمی بل ہے جس کے تحت مشتبہ افراد کو تین مہینے کے بجائے چھ مہینے تک حراست میں رکھا جا سکے گا۔ لیکن یہ توسیع عدالت صرف اس بنیاد پر کرے گی کہ تفتیش میں پیش رفت ہو رہی ہے اور حراست میں توسیع ضروری ہے ۔

 پولیس کے سامنے دیے گئے اقبالی بیان اور خفیہ طریقے سے ریکارڈ کی گئی دہشت گردوں کی بات چیت کو بھی ثبوت کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے
حزب اختلاف کے رہنما ایل کے اڈوانی

مشتبہ افراد کی ضمانت کے طریقۂ کار کو بھی سخت کر دیا گیا ہے ۔ ملزم کے خلاف جائے وقوع سے واضح ثبوت مثلآ انگلیوں کے نشان اور ڈی این اے جیسے شواہد ملنے کی صورت میں عدالتیں ضمانت دینے سے انکار کر سکیں گی۔

وزیر داخلہ نے کہا ’میں نے سخت قوانین اور حقوق کے درمیان ایک توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔‘

حزب اختاف کے رہنما ایل کے اڈوانی نے بل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوٹا جیسے سخت قانون کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا ’پولیس کے سامنے دیے گئے اقبالی بیان اور خفیہ طریقے سے ریکارڈ کی گئی دہشت گردوں کی بات چیت کو بھی ثبوت کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان قانونی تجاویز کی حمایت کریں گے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر اور سرکردہ وکیل کپل سبل نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ٹاڈا اور پوٹا جیسے سخت قوانین کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہا تھا جس کے سبب انہیں ختم کرنا پڑا۔ گودھرا ٹرین کے واقعے میں پوٹا کے تحت تقریباً سو مسلمانوں کی گرفتاری کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا’ نظر ثانی کمیٹی اور سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود یہ بے قصور افراد اس قانون کے سبب سات برس سے جیل میں ہیں ۔ ان کی ذمے داری کون لے گا۔‘

 نظر ثانی کمیٹی اور سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود یہ بے قصور افراد اس قانون کے سبب سات برس سے جیل میں ہیں ۔ ان کی ذمے داری کون لے گا
سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر کپل سبل

بحث کے دوران اس وقت کچھ تلخی پیدا ہوئی جب ایک رکن نے مرکزی وزیر عبدالرحمن انتولے کے ایک ٹی وی انٹرویو پر سخت اعتراض کیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے کی شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بارے میں کچھ شبہات ظاہر کیے تھے۔

انٹرویو میں وہ مبینہ طور پر یہ جاننا چاہتے تھے کہ جب سارا واقعہ تاج اور اوبیرائے ہوٹل میں ہو رہا تھا تو انہیں کاما ہسپتال کس نے بھیجا جہاں کوئی خاص صورتحال نہیں تھی اور جہاں وہ مارے گئے۔

بحث کے اختتام پر دونوں بل منظور کر لیے گئے۔

اسی بارے میں
بھارت میں ملا جلا ردِ عمل
11 December, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد