انڈیا: فوجی، سیاسی قیادت کا اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دفتر میں سیاسی اور فوجی قیادت کا ملکی سلامتی کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ہے۔ اجلاس میں نیوکلیئر چیف، مسلح افواج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے سربراہان اور قومی سلامتی کے مشیر سمیت کابینہ کے ارکان نے شرکت کی۔ اس سے پہلے سنیچر کو دِلی میں ایک سیمینار میں انڈیا کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ دہشت گردی اس علاقے کے لیے ایک شدید خطرہ بنی ہوئی ہے اور اگر کو ئی ملک اپنی یقین دہانی پر قائم نہيں رہ سکتا تو پھر اپنے تحفظ اور مفاد کے لیے انڈیا اپنے تمام آپشنز کے استعمال پر غور کر سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے فوری طور پر اجلاس کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ انڈیا کے اخبار ٹیلیگراف کی مدیر ملینی چیٹرجی نے بی بی سی ہندی سروس سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کے بیان اور اس کے بعد اِس اجلاس کی اہمیت کے بارے میں کہا کہ ’یہ بہت اہم ہے، اب تک انڈیا پاکستان میں کچھ عناصر کی بات کر رہا تھا اور پاکستان سے تعاون کا مطالبہ کر رہا تھا، لیکن پاکستان اب تک یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اجمل قصاب پاکستانی ہیں۔ اس سے انڈیا کی حکومت کو لگا ہے کہ یہ ایک سگنل ہے کہ صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کی زبان جیسی بھی ہو دراصل پاکستان تعاون کے لیے تیار نہیں‘۔
پرنب مکھرجی نے کہا کہ ’پوری دنیا میں شدت پسندوں کے چہروں کو دیکھا گیا ہے۔ معصوم لوگوں کی جانیں اور زبردست جانی و مالی نقصان کسی حادثے یا غیر ارادی حرکت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ قتل و غارت گری ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی ہے۔ ایک شدت پسند جسے گرفتار کیا گیا ہے اس نے اپنے آقاؤں کے متعلق بڑے جھنجوڑ دینے والے انکشافات کیے ہیں۔‘ بھارتی وزیرداخلہ پرنب مکھرجی نےممبئی پر حملوں کے بعد دوسری بار پاکستان کے سلسلے میں سبھی راستے کھلے رکھنے کی بات کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے اپنے پڑوسیوں سے بار بار درخواست کی کہ وہ دہشتگردانہ سرگرمیوں کی امداد نہ کریں اور دہشتگردی کے ڈھانچے کو ختم کریں لیکن وعدے کے باوجود اس پر عمل نہیں ہوا۔ بی جے پی ساحلی سکیورٹی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گوا میں پولیس کے آئی جی نے کہا کہ ’ظاہر ہے کہ سکیورٹی کو خطرہ ہے، لیکن اس وقت ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے‘۔ ساحلی علاقوں کے بارے میں یہ اقدامات نومبر میں ممبئی پر ہونے والے حملوں کے بعد کیے گئے ہیں۔ کئی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو انڈیا جانے سے روکا ہے۔ انٹرپول انٹر پول کے سیکرٹری جنرل رونالڈ نوبیل اور بھارت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ملاقات کے دوارن ممبئی حملوں کےگرفتار اور مارے گئے شدت پسندوں کے متعلق بات چیت کی اور اطلاعات کے مطابق ان افراد کے نام، فنگر پرنٹس، تصاویر اور ڈی این اے پروفائل کا اس لسٹ سے موازنہ کیا گیا ہے جو انٹر پول کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ انٹر پول نے مارے گئے افراد کے لیے بلیک نوٹس اور ان کے متعلق مزید معلومات کے لیے بلیو نوٹس جاری کرنے کی بھی پیش کش کی ہے۔ ۔ | اسی بارے میں دہشتگردی سے نمٹنے کیلیے فورس18 December, 2008 | انڈیا بھارت میں ملا جلا ردِ عمل11 December, 2008 | انڈیا پاک بھارت کشیدگی، رائس پاکستان میں04 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||