دہشتگردی سے نمٹنے کیلیے فورس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست مہاراشٹر میں اب نیشنل سکیورٹی گارڈز کی طرز پر فورس ون کی تشکیل کی جائے گی تاکہ وہ دہشت گرد حملوں کو روک اور ان کا مقابلہ کر سکے۔ ریاست کے ایک اعلی پولیس افسر کے مطابق پولیس فورس میں سے ہی تین سو پچاس پولیس اہلکاروں کا انتخاب کیا جائے گا جن کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان ہوں گی۔انہیں فوج اور بحریہ کے کمانڈرز تربیت دیں گے۔ پولیس افسر کے مطابق ضرورت محسوس ہوئی تو غیر ملکی افسران کی بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ تربیت این ایس جی کمانڈوز کی طرز پر ہی ہو گی۔اس دستہ کو ایڈیشنل پولیس کمشنر درجہ کی سربراہی حاصل ہو گی لیکن یہ دستہ مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے ماتحت کام کرے گا۔ فورس ون کے دستے کو اعلی تربیت کے ساتھ ہی جدید اسلحہ سے بھی لیس کیا جائے گا۔اس فورس کے پاس تین ہیلی کاپٹرز ہوں گے۔ان کے بیرک اور ان کا ہیڈ کوارٹر قومی ایئر پورٹ کے قریب بنانے کی تجویز ہے تاکہ کسی بھی طرح کے ہنگامی حالات میں انہیں وہاں سے فوری طور پر ریاست کے کسی بھی حصے تک لےجانے میں آسانی ہو۔ حکام کے مطابق ان کمانڈوز کو چھ ماہ کی سخت تربیت دی جائے گی۔ چھ ماہ بعد یہ کمانڈوز اپنا چارج لیں گے۔ ریاست کے نئے وزیراعلی اشوک چوہان نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فورس ون کی تشکیل کے ساتھ ہی کئی اور اقدامات کا اعلان کیا ہے ۔ اشوک چوان کے مطابق ممبئی حملوں نے حکومت کو ممبئی کے ساحلی علاقوں کا تحفظ کرنے کے لیے بیدار کر دیا ہے اس لیے مہاراشٹر کے سات سو بیس کلومیٹر تک پھیلے ساحل کی نگرانی کے لیے تینتیس ساحلی پولیس سٹیشن کی تشکیل دی جائے گی۔ان میں سے چوبیس ساحلی آؤٹ پوسٹ ہوں گے۔ سمندر میں کسی بھی طرح کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے چھتیس تیز رفتار بوٹس خریدی جائیں گی جن میں سے بارہ بوٹس کو فوری طور پر خریدا جائے گا۔ ممبئی ہمیشہ سے دہشت گردوں کے نشانے پر رہی ہے اس لیے اب ریاستی سکیورٹی کاؤنسل کی تشکیل بھی کی جائے گی۔اس میں مسلح افواج ، تجارتی اور سماجی شعبے کے علاوہ انتظامیہ کے منتخب نمائندے ہوں گے۔ نئے وزیر داخلہ جینت پاٹل نے ریاست میں طویل مدتی تحفظ منصوبہ کے تحت دنیا بھر کے ماہرین کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ممبئی سے پولیس ٹیم شکاگو جائے گی جو وہاں کے ماہرین سے دہشت گردوں کے حملوں کو روکنے کے طریقہ کار کو سمجھے گی۔ ممبئی میں جب دہشت گردوں کا حملہ ہوا تھا اس وقت دہلی سے این ایس جی کمانڈوز کو ممبئی پہنچنے میں چھ گھنٹے لگ گئے تھے۔ان حملوں کے بعد سے ہی ممبئی میں اس طرز کے دستے کی تشکیل پر زور دیا جانےلگا تھا۔ |
اسی بارے میں ممبئی پر حملے: خصوصی ضمیمہ27 November, 2008 | منظر نامہ ’عراق میں بھی اتنا ڈر نہیں لگا تھا‘27 November, 2008 | انڈیا ’غیر ملکی سامنے آ جائیں‘27 November, 2008 | انڈیا ممبئی فائرنگ، عینی شاہدین کیا کہتے ہیں26 November, 2008 | انڈیا گرفتار شدت پسند کا نارکو ٹیسٹ 05 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||