صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی |  |
 | | | ممبئی حملوں میں ہیمنت کرکرے سمیت چودہ سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے |
چھبیس نومبر کی رات ممبئی میں شدت پسندوں نے جس گاڑی میں انسداد دہشتگردی دستے یعنی اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے، انکاؤنٹر سپیشلٹ وجے سلاسکر اور ایڈشنل کمشنر اشوک کامت کو ہلاک کیا اس گاڑی میں کانسٹبل ارون جادھو بھی سوار تھے جنہیں دو گولیاں لگی ہیں اور ان کا علاج بامبے ہسپتال میں چل رہا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ارون جادھو نے کہا’ یہ سب پوچھ کر مجھے وہ سب یاد مت دلاؤ، جانے دو اب۔‘ یہ کہتے کہتے جادھو کی آنکھیں بھر آئیں اور چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔ پھر کہنے لگے کہ انہیں ان کے افسران نے اس پر بات کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ اس سے تفتیش کا عمل متاثر ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی وی سے پتہ چلا کہ شدت پسندوں نے کاما ہسپتال پر حملہ کیا ہے اور وہ ایک لال کار میں سوار ہیں۔ اسی خبر پر ہیمنت کر کرے، وجے سلاسکر اور اشوک کامت کے ساتھ وہ گاڑی میں سوار ہوکرگئے تھے۔ یہ کار اینکاؤنٹر سپیشلسٹ وجے سلاسکر چلا رہے تھے۔ سینیئر افسران کا یہ قافلہ جب رنگ بھون کے پاس پہنچا تو ایک لال کار دیکھ کر اپنی کار کی رفتار کم کردی اور جیسے ہی رفتار کم ہوئی شدت پسندوں نے اسےنشانہ بنایا۔ ’ہیمنت کرکرے، وجے سلاسکر اور اشوک کامت صاحب کار میں ہی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ ایک گولی میرے شانے کے نیچے اور دوسری ہاتھ میں لگي۔ میں گاڑی میں اس طرح پڑا رہا ہے جیسے میری موت ہوگئی ہو اس طرح میری جان بچ گئی۔‘
 |  ہیمنت کرکرے، وجے سلاسکر اور اشوک کامت صاحب کار میں ہی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ ایک گولی میرے شانے کے نیچے اور دوسری ہاتھ میں لگي۔ میں گاڑی میں اس طرح پڑا رہا جیسے میری موت ہوگئی ہو اس طرح میری جان بچ گئی  ارون جادھو ، کانسٹیبل |
ارون جادھو نے بتایا کہ ایک دیگر پولیس افسر کو بھی گولیاں لگی تھیں جو میرے اوپر پڑا تھا اور بعد میں وہ مردہ پایا گیا۔’ میں راستے میں کچھ بھی نہیں سن پایا کہ وہ کیا بات کر رہے تھے لیکن جب کرکرے سر کو مار کےگاڑی سے نکال رہے تھے تو اتنی آواز سنی کہ یہ دیکھو انہوں نے بلیٹ پروف جیکٹ پہن رکھی ہے اور پھر ان پر اور فائرنگ کی۔‘ فائرنگ کے بعد دونوں حملہ آوروں نےگاڑی کو دونوں طرف سےگھیر لیا اور آگے بیٹھنے والے سبھی افراد کو گاڑی سے نکال وہیں ڈال دیا۔ پھر پولیس کی یہی گاڑی دونوں شدت پسند لیکر آگے چلے اور فائرنگ کرتے رہے لیکن راستے میں گاڑی کا ایک ٹائر پھٹ گیا تو انہوں نے پولیس کی گاڑی چھوڑ دی جس کے بعد جادھو کو کسی نے ہسپتال پہنچایا۔ گاڑی میں ڈرائیور کی جگہ کلاسکر نے لے رکھی تھی۔ اس کار میں ایک طرف ایڈیشنل کمشنر اشوک کامت اور دوسری جانب اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے سوار تھے۔ جادھو کے ساتھ دو مزید کانسٹبل بالکل پیچھے والی سیٹ پر تھے جس میں سے صرف جادھو ہی زندہ بچے سکے۔ |