مسعود اظہر ملک میں نہیں: پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر نظربند نہیں ہیں اور ان کے بارے میں حکومت پاکستان کو کوئی علم نہیں ہے۔ بھارت میں پاکستان کے سفیر شاہد ملک نے بدھ کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ خبریں غلط ہیں کہ مولانا مسعود اظہر کو نظر بند کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک انہیں علم ہے مسعود اظہر کو گھر میں نظر بند کرنے کی خبر درست نہیں ہے۔ مولانا مسعود اظہر ان شدت پسندوں میں سے ایک ہیں جو بھارت کو انتہائی مطلوب ہیں اور بھارت کے مطابق ان کا نام ان لوگوں کی فہرست میں بھی ہے شامل ہے جنہیں بھارت نے پاکستان سے طلب کیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے وزیر دفاع احمد مختار کہہ چکے ہیں کہ مسعود اظہر پولیس کی حراست میں ہیں۔ کہا جاتا ہے مولانا مسعود اظہر کو آخری بار پاکستان کے شہر بہاولپور میں دیکھا گیا تھا۔ مولانا مسعود اظہر کو 1994 میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے گرفتار کیا گیا تھا اور 1999 میں ہندوستانی ہوائی جہاز آئی سی 814 کو اغوا کیا گیا اور یرغمال بنائے جانے والے مسافروں کے بدلے رہا کیا گیا۔ شاہد ملک نے ٹی وی انٹریو میں کہا ’ہمیں بھی مسعود اظہر کی تلاش ہے۔ وہ نظر بند نہیں ہیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے یہ خبریں صحیح نہیں کہ انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ وہ پاکستان میں نہیں ہیں۔ ہم نہیں جانتے وہ کہاں ہیں۔‘ شاہد ملک نے مسعود اظہر کے علاوہ داؤد ابراہیم کے بارے میں بھی کہا کہ وہ بھی پاکستان میں نہیں ہیں۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر بھارت داؤد ابراہیم کے پاکستان میں ہونے کا ثبوت دیتا ہے تو کیا پاکستان داؤد ابراہیم کو ہندوستان کو حوالے کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تو یہ ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں نہیں ہیں۔ بی بی سی اسلام آباد کے سید شعیب حسن کا کہنا ہے کہ مولانا مسعود بہاولپور میں غیر نمایاں طور پر ایک مدرسے کی تعمیر کی نگرانی کر رہے تھے لیکن جیسے ہی ممبئی دھماکے ہوئے وہ غائب ہو گئے۔ اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مقامی انٹیلیجنس اداروں کے پاس ہیں۔ انٹرویو کے دوران جب شاہد ملک سے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور لشکرِ طیبہ کے تعلق کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کا لشکرِ طیبہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسعود اظہر جیشِ محمد کے بانی ہیں، جس پر سنہ دو ہزار ایک میں لشکرِ طیبہ کے ساتھ مل کر بھارتی پارلیمنٹ پر کرنےکا الزام ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں دونوں ملک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ | اسی بارے میں ہند پاک رشتوں کی بہتری کی شرط14 December, 2008 | انڈیا ’ضروری جانکاری تفتیش کے بعد‘ 13 December, 2008 | انڈیا بھارت میں ملا جلا ردِ عمل11 December, 2008 | انڈیا دہشتگردی کے خلاف نئے اقدامات11 December, 2008 | انڈیا ’یہ ایک جنگی صورت حال ہے‘11 December, 2008 | انڈیا قصاب 24 دسمبر تک حراست میں 11 December, 2008 | انڈیا ’کارروائی، تفتیش ہو رہی ہے‘10 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||