ہند پاک رشتوں کی بہتری کی شرط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اس کے ساتھ بھارت کے تعلقات تب تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک وہاں کی سر زمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا رہے گا۔ مسٹر سنگھ اتوار کو سخت ترین حفاظتی انتظامات اور ہڑتال کے بیچ صوبے کے ایک روزہ دورے پر سرینگر پہنچے۔ یہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہ ستّر کلومیٹر دُور شانگس انتخابی حلقے کے لیے روانہ ہوئے۔ شانگس میں کانگریس پارٹی کے حامیوں اور مقامی لوگوں سے خطاب کے دوران ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ’ہم پاکستان کے ساتھ دوستی اور تعلقات میں بہتری کے خواہشمند ہیں، لیکن تعلقات تب تک بہتر نہیں ہونگے جب تک پاکستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا پوری طرح ترک نہ کردے۔‘ انہوں نے ممبئی حملے کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو ہندوستان پر دہشت گردانہ حملوں کے قائل ہیں، 'لیکن دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ ہرقیمت پر جاری رہے گی۔‘ بھارتی وزیراعظم نے علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس یا اس سے تعلق رکھنے والے کسی رہنما کا نام لیے بغیر کہا کہ ’مسائل کا حل انتہا پسندی کے ذریعہ نکالنے پر آمادہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ خون خرابے سے کوئی مسلہ حل نہیں ہوتا۔ انہیں یہ راستہ ترک کرلینا چاہیے۔‘
ڈاکٹر سنگھ نے کشمیر میں خطاب کے بعد جنوبی خطہ ڈوڈہ کے لیے اُڑان بھری جہاں انہوں نے ایک اور انتخابی جلسے سے خطاب کیا۔ انہوں نےسرینگر، مظفرآباد روڑ پر آمد و رفت کی بحالی کو کانگریس حکومت کی طرف سے کشمیریوں کے لیے اُٹھایا جانے والا بہتر قدم قرار دیا اور کہا کہ آئندہ مزید راستے کھولے جائیں گے۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ’کانگریس پارٹی کشمیر اور کشمیریوں کے لیے بہبودی کا ایک مربوط پروگرام رکھتی ہے جس سے یہاں کے معاشی حالات بہتر ہوجائینگے۔‘ اس دوران پوری وادی میں آج تیسرے روز بھی ہڑتال اور سکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے عام زندگی متاثر رہی۔ یونیورسٹی اور اس سے نچلے درجوں کے امتحانات کو پہلے ملتوی کردیا گیا ہے۔ ہڑتال کی کال حریت دھڑوں، تاجروں اور وکلا کی رابطہ کمیٹی نے دی تھی۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے بتایا کہ ’ڈاکڑ منموہن سنگھ کے ساتھ ہماری کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے، لیکن وہ چونکہ انتخابی مہم کے سلسلے میں آ رہے ہیں لہٰذا کشمیری لوگ دُنیا کو دکھا دینگے کہ ہم الیکشن ڈراموں پر یقین نہیں رکھتے۔‘ رابطہ کمیٹی نے سنیچر کو الیکشن کے دوران پلوامہ میں ایک بیس سالہ نوجوان کی پولیس فائرنگ میں ہلاکت کی بھی مذمت کی۔ | اسی بارے میں پاکستان بیس افراد حوالے کرے: انڈیا02 December, 2008 | انڈیا مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق15 November, 2006 | انڈیا پاکستان کیلیئے بھارتی موقف میں سختی15 July, 2006 | انڈیا ’دھماکوں میں سرحد پار کا ہاتھ ہے‘14 July, 2006 | انڈیا پاک بھارت کشیدگی، رائس پاکستان میں04 December, 2008 | انڈیا ہند- پاک کشیدگی کی طرف 01 December, 2008 | انڈیا ’رخنہ موسم ڈال سکتا ہے‘12 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||