BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 December, 2008, 10:10 GMT 15:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشتگردی کے خلاف نئے اقدامات
پی چدم برم
وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بعض سخت اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔
ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان نے داخلی سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے کے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

وزیر داخلہ پی چدم برم نے قومی تفتیشی ایجنسی قائم کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز کو جدید ہتھیار اور سازو سامان مہیا کرانے کی بات کہی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جنوبی ایشاء’ دہشتگردی کے طوفان‘ کی لپیٹ میں ہے اور آنے والے دنوں میں بعض مزید سخت اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا ’دس کے دس حملہ آور پاکستانی شہری تھے جو 23 نومبر کو کراچی سے نکلے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے۔‘

وزیر داخلہ نے خفیہ جانکاری کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ کوسٹ گارڈز اور بحریہ کو جانکاری موصول ہوئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ بحریہ - کوسٹ گارڈز نے کم از کم تین روز تک تلاش کی تھی اور ہیلی کاپٹر کی مدد بھی لی گئی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔‘

حکومت کا اعلان
قومی تفتیشی ایجنسی تشکیل دی جائے گی۔
ریاستی پولیس کے کمانڈو دستوں کی تربیت کے لیے مختلف صوبوں ميں بیس انسدادِ دہشتگردی سکول کھولے جائيں گے۔
خفیہ اداروں اور پولیس کے محکمے میں تمام خالی جگہوں کو پر کیا جائے گا۔
تقریبا آٹھ ہزار کلومیٹر لمبی بحری سرحدوں کی حفاظت کے لیے کوسٹل کمانڈ تشکیل دی جائے گي۔
دہشتگردی روکنے کے لیے قوانین مزید سخت کیے جائيں گے۔
حوالہ لین دینے پر قابو پانے کے لیے نیا قانون بنایا جائے گا

بحث کے دوران وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ جنگ دہشتگری کا حل نہیں ہے۔ یہ بات وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ میں بحث کے دوران کہی ہے۔

پرنب مکھرجی نے پاکستان کا نام لیے بنا کہا کہ ممبئی حملوں کے ساتھ ساتھ اس سے قبل ہوئے تمام حملوں کا مرکز ہمارا پڑوسی ملک ہی ہے۔

انہوں نے کہا’ ہندوستان کی عوام یہ توقع کرتی ہے کہ ملک کی جانب سے اس قسم کے اقدامات کیے جائيں جو یہ پیغام دے کہ آئندہ کوئی ہم پر حملہ کرنے کی ہمت نہ کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے خلاف ہر قسم کا پروپگینڈا کیا گیا لیکن ’ہم مشتعل نہیں ہوئے۔‘

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہندوستان نے پاکستان کو چالیس مشتبہ افراد کی فہرست دی ہے جس میں 1993 ممبئی دھماکے کے ملزم داؤد ابراہیم کا نام بھی شامل ہے۔

پاکستان میں جاری آپریشن کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’ دو ہزار ایک میں پارلمینٹ پر حملے کے بعد بھی پاکستان کی جانب سے ایسی ہی کاروائیاں کی گئی تھیں لیکن اب پاکستان کو مؤثر اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے پاکستان کے اس دعوٰی کو بھی مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت اور شدت پسندوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا’ کیا غیر سرکاری عناصر آسمان سے یا پھر دوسرے سیارے سے آتے ہیں؟ ایسے عناصر ملک کی زمین سے ہی کام کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کارروائی کرنے کی ضرورت ہے صرف دکھاوے سے کام نہیں چلے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد