BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 December, 2008, 08:04 GMT 13:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرینگر : چناؤ سے قبل تناؤ

فائل فوٹو
انتخابات سے پہلے ہی وادی فوج کی چھاؤنی لگتی ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں چوبیس دسمبر کو انتخابات کے آخری مرحلے سے قبل ریاستی دارالحکومت سرینگر میں تناؤ کی صورتحال پائی جاتی ہے اور انتظامیہ نے سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے ہیں۔

حریت کانفرنس کی طرف سے انتخابی عمل کے خلاف مزاحمت کی دھمکی کے بعد انتظامیہ نے نیم فوجی عملے کی پچاس اضافی کمپنیوں کو شہر اور اس کے مضافات میں تعینات کیا ہے۔ سرینگر کے تمام سات سو نوے پولنگ سٹیشنوں کو سکیورٹی کے حوالےسے حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔

علیحدگی پسندوں کی حمایت یافتہ رابطہ کمیٹی نے جمعہ کو دوپہر کے بعد ہڑتال کی کال دی ہوئی تھی لیکن سخت سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے وادی کے بیشتر حصوں میں صبح سے ہی ہڑتال رہی۔ مسافر بردار گاڑیاں سڑکوں سے غائب تھیں اور کاروباری و تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔

شہر میں جامہ تلاشیوں کا سلسلہ بھی تیز کردیا گیا ہے اور جامع مسجد کی طرف جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔

ضلع مجسٹریٹ معراج الدین ککرو نے پابندیوں کے بارے میں بتایا کہ ’چونکہ بعض عناصر گڑ بڑ پھیلانے کی تاک میں رہتے ہیں، لہٰذا ہم نے پابندیاں سخت کردی ہیں۔‘ یہ پوچھنے پر کہ الیکشن کے روز سرینگر میں کس طرح کی پابندیاں ہونگی، مسٹر ککرو نے بتایا کہ’ قانون اپنا کام کرے گا۔‘

حریت کی ہدایات
 ہم نے نچلی سطح پر اپنے کارکنوں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ لوگوں کو مزاحمت کے لئے تیار کریں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ الیکشن کے روز یہاں مزاحمت ہوگی۔ سرینگر کا معاملہ الگ ہے۔ آپ نے دیکھا جب بھی کہیں الیکشن تھا، تو سرینگر کی ناکہ بندی کی گئی۔ آج بھی شہر کو ایک فوجی چھاؤنی بنادیا گیا ہے، تمام حریت رہنما یا تو جیل میں ہیں یا پھر گھروں میں نظر بند ہیں۔ لوگ اس یکطرفہ جمہوری عمل کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونگے۔
میر واعظ مولوی عمر فاروق

پچھلے سات ہفتوں سے اپنے ہی گھر میں نظر بند میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’ہم نے نچلی سطح پر اپنے کارکنوں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ لوگوں کو مزاحمت کے لئے تیار کریں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ الیکشن کے روز یہاں مزاحمت ہوگی۔ سرینگر کا معاملہ الگ ہے۔ آپ نے دیکھا جب بھی کہیں الیکشن تھا، تو سرینگر کی ناکہ بندی کی گئی۔ آج بھی شہر کو ایک فوجی چھاؤنی بنا دیا گیا ہے، تمام حریت رہنما یا تو جیل میں ہیں یا پھر گھروں میں نظر بند ہیں۔ لوگ اس یکطرفہ جمہوری عمل کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونگے۔‘

سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے حریت کانفرنس کے اس اعلان کے بعد سکیورٹی کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا۔ نیم فوجی سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی نے بی بی سی کو بتایا کہ’ نیم فوجی عملے کی مزید پینتالیس کمپنیوں کو پہلے ہی طلب کیا گیا تھا، لیکن اب مزید پانچ کمپنیوں کو طلب کیا جارہا ہے۔ سرینگر میں سات سو نوے پولنگ سٹیشن ہیں، جو سب کے سب ہائیپر سینسی ٹِیو ہیں۔‘

واضح رہے کہ چوبیس دسمبر کو کشمیر میں انتخابات کا آخری مرحلہ منعقد ہوگا جس میں سرینگر کے آٹھ اور جموں ضلع کے تیرہ حلقوں کے لئے ووٹ ڈالے جائنگے۔ سرینگر میں سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت کُل ایک سو باون اُمیدوار میدان میں ہیں۔

اسی بارے میں
ووٹ پڑے تو؟
22 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد