سرینگر : چناؤ سے قبل تناؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں چوبیس دسمبر کو انتخابات کے آخری مرحلے سے قبل ریاستی دارالحکومت سرینگر میں تناؤ کی صورتحال پائی جاتی ہے اور انتظامیہ نے سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے ہیں۔ حریت کانفرنس کی طرف سے انتخابی عمل کے خلاف مزاحمت کی دھمکی کے بعد انتظامیہ نے نیم فوجی عملے کی پچاس اضافی کمپنیوں کو شہر اور اس کے مضافات میں تعینات کیا ہے۔ سرینگر کے تمام سات سو نوے پولنگ سٹیشنوں کو سکیورٹی کے حوالےسے حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔ علیحدگی پسندوں کی حمایت یافتہ رابطہ کمیٹی نے جمعہ کو دوپہر کے بعد ہڑتال کی کال دی ہوئی تھی لیکن سخت سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے وادی کے بیشتر حصوں میں صبح سے ہی ہڑتال رہی۔ مسافر بردار گاڑیاں سڑکوں سے غائب تھیں اور کاروباری و تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ شہر میں جامہ تلاشیوں کا سلسلہ بھی تیز کردیا گیا ہے اور جامع مسجد کی طرف جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ معراج الدین ککرو نے پابندیوں کے بارے میں بتایا کہ ’چونکہ بعض عناصر گڑ بڑ پھیلانے کی تاک میں رہتے ہیں، لہٰذا ہم نے پابندیاں سخت کردی ہیں۔‘ یہ پوچھنے پر کہ الیکشن کے روز سرینگر میں کس طرح کی پابندیاں ہونگی، مسٹر ککرو نے بتایا کہ’ قانون اپنا کام کرے گا۔‘
پچھلے سات ہفتوں سے اپنے ہی گھر میں نظر بند میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’ہم نے نچلی سطح پر اپنے کارکنوں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ لوگوں کو مزاحمت کے لئے تیار کریں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ الیکشن کے روز یہاں مزاحمت ہوگی۔ سرینگر کا معاملہ الگ ہے۔ آپ نے دیکھا جب بھی کہیں الیکشن تھا، تو سرینگر کی ناکہ بندی کی گئی۔ آج بھی شہر کو ایک فوجی چھاؤنی بنا دیا گیا ہے، تمام حریت رہنما یا تو جیل میں ہیں یا پھر گھروں میں نظر بند ہیں۔ لوگ اس یکطرفہ جمہوری عمل کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونگے۔‘ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے حریت کانفرنس کے اس اعلان کے بعد سکیورٹی کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا۔ نیم فوجی سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی نے بی بی سی کو بتایا کہ’ نیم فوجی عملے کی مزید پینتالیس کمپنیوں کو پہلے ہی طلب کیا گیا تھا، لیکن اب مزید پانچ کمپنیوں کو طلب کیا جارہا ہے۔ سرینگر میں سات سو نوے پولنگ سٹیشن ہیں، جو سب کے سب ہائیپر سینسی ٹِیو ہیں۔‘ واضح رہے کہ چوبیس دسمبر کو کشمیر میں انتخابات کا آخری مرحلہ منعقد ہوگا جس میں سرینگر کے آٹھ اور جموں ضلع کے تیرہ حلقوں کے لئے ووٹ ڈالے جائنگے۔ سرینگر میں سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت کُل ایک سو باون اُمیدوار میدان میں ہیں۔ | اسی بارے میں کشمیر میں ووٹ بھی اور آزادی بھی17 December, 2008 | انڈیا کشمیر: 2 حزب ’کمانڈر‘ ہلاک17 December, 2008 | انڈیا حکومت کےخلاف فتویٰ کا فیصلہ12 December, 2008 | انڈیا ’ہم دل سے ووٹ نہیں ڈالتے‘30 November, 2008 | انڈیا کشمیر: الیکشن کا تیسرا مرحلہ30 November, 2008 | انڈیا کشمیر: پولنگ کے دوران مظاہرے بھی23 November, 2008 | انڈیا کشمیرمیں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ23 November, 2008 | انڈیا ووٹ پڑے تو؟22 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||