کشمیرمیں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اتوار کو ریاستی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں چھ حلقوں میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ چار حلقے راجوڑی میں ہیں جو جنوبی خطے میں آتا ہے جبکہ دو حلقے وادی کشمیر میں ہیں۔وادی کے حلقوں میں سے گاندربل کے حلقے پر سب کی نظریں ہیں جہاں سے نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ امیدوار ہیں۔ پونچھ کے ڈپٹی کمیشنر نے بتایا کہ چار سو چون میں سے چھیانوے پولنگ سٹیشن انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایل او سی پر کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر اس علاقے میں متبادل پولنگ سٹیشن بھی بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان سن دو ہزار تین سے فائربندی ہے لیکن کوئی رسک نہیں لیا جا سکتا۔ انتخابات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیاسی مسائل پر زیادہ زور نہیں دیا جا رہا۔ زیادہ تر اقتصادی مسائل پر توجہ دی جا رہی ہے جیسے کہ عمر عبداللہ نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری جماعتیں بھی اسی طرح کے وعدے کر رہی ہیں۔ ایک جماعت نے کہا کہ سرکاری محکموں میں چالیس ہزار آسامیوں کو پر کیا جائے گا۔ لوگ بھی انہیں باتوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ’تحریک آزادی‘ سے ہٹے نہیں بلکہ اپنے روز مرّہ مسائل کا بھی حل چاہتے ہیں اسی لیے وہ پولنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں بھی ووٹنگ کی شرح کے حوالے سے پہلے مرحلے میں، علیحدگی پسند جماعتوں کی مخالفت کے باوجود، غیر متوقع طور پر زیادہ ووٹنگ کا اثر دیکھنے میں آئے گا لیکن حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ وادی کے دونوں حلقوں کنگن اور گاندر بل میں ایسے لوگ ملتے ہیں جو بائیکاٹ کی بات کرتے ہیں۔ جمعے کے روز انتخابات کی مخالفت میں تشدد کے واقعات بھی ہوئے۔ سنیچر کو بارامولہ میں انتخابات کے خلاف مظاہرے کرنے والے دو لوگ پولیس کی فائرنگ سے مارے گئے۔ اسی طرح پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کے انتخابی قافلے میں شامل ایک گاڑی کو نذر آتش بھی کیا گیا۔ دوسرے مرحلے کے انتخابات سے قبل علیحدگی پسند جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ ان کے بیشتر رہنما نظربند ہیں۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران سرینگر میں کرفیو جیسے حالات تھے اور رہنماؤں کو لوگوں کے پاس جانے سے روکا جا رہا ہے۔ غیر جانبدار سمجھے جانے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں زیادہ ووٹنگ کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ ’تحریک آزادی‘ سے ہٹ گئے تھے بلکہ وہ اس عمل میں شریک ہو کر اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ روز مرہ معمولات چلانے کے لیے ان کی مرضی کے لوگ ہوں۔ راجوڑی اس کے علاوہ راجوڑی ایک پہاڑی ضلع ہے جہاں بہت سے پسماندہ علاقے ہیں۔ یہاں بیروزگاری ہے بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے اور سیاستدان اس پر بات بھی کر رہے ہیں لیکن ذات برداری کی سیاست کا یہاں گہرا اثر ہے۔ راجوڑی کے چاروں حلقوں میں کہیں پر بھی کسی ایک جماعت کا پلڑا بھاری نہیں ہے۔ سن دو ہزار دو میں بھی راجوڑی میں مختلف جماعتوں کو کامیابی حاصل ہوئی تھی اور اس بار بھی ویسی ہی صورتحال ہے۔ | اسی بارے میں ووٹ پڑے تو؟22 November, 2008 | انڈیا کشمیر: مظاہرین پر فائرنگ، 2 ہلاک22 November, 2008 | انڈیا سری نگر میں ’غیر اعلانیہ کرفیو‘21 November, 2008 | انڈیا کشمیر الیکشن : کس کی جیت؟19 November, 2008 | انڈیا کشمیر میں 55 فیصد پولنگ17 November, 2008 | انڈیا کشمیریوں نے ووٹ کیوں ڈالا ؟ 17 November, 2008 | انڈیا کشمیر:انتخابات سے قبل زندگی معطل16 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||