حکومت کےخلاف فتویٰ کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علماء کے اتحاد متحدہ مجلس علماء نے تاریخی جامع مسجد میں مسلسل پانچ ہفتوں سے جمعہ کی نماز پر پابندی کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم حکومت کا اصرار ہے کہ تشدد کے خدشہ سے صرف نقل و حمل کو محدود کیا گیا ہےاور نماز پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تین سال قبل سماجی بے راہ روی کے خلاف تحریک چھیڑنے کے لئے وجود میں آئی متحدہ مجلس علماء کے سربراہ اور حریت کانفرنس رہنما میرواعظ عمرفاروق نے گھر میں نظربندی کے دوران بی بی سی کو فون پر بتایا کہ صوبے میں تمام مکاتب فکر اور فقہوں سے تعلق رکھنے والے علما کا اجلاس عنقریب طلب کیا جائے گا۔ میرواعظ کا کہنا ہے کہ ’اس اجلاس میں برصغیر کے دیگر بڑے علما کے ساتھ مشاورت کے بعد مذہبی امور میں بے جا مداخلت‘ کے لئے حکومت کے خلا ف توہین اسلام کا فتویٰ جاری کیا جائے گا۔‘
میرواعظ نے مزید بتایا کہ حکومت کی طرف سے ’مذہبی امور میں مُداخلت‘ یہاں کا دیرینہ مسلہ ہے جس میں مقدس خانقاہوں کی بے حُرمتی اور مساجد کے طویل محاصروں کا معاملہ سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا : ’ اُنیس سو ترانوے میں فوج نےسب سے زیادہ مقبول زیارت گاہ حضرتبل کا محاصرہ کیا جو کئی ہفتوں تک جاری رہا اور اس کے خلاف جب لوگوں نے مظاہرے کئے تو ان پر گولیاں برسائیں گئیں۔ اسی طرح اُنیس سو پچانوے میں چرارشریف کی عبادت گاہ کو میدان جنگ بناکر اس تاریخی خانقاہ کو نذرآتش کردیا گیا۔ حالیہ دنوں رمضان کے مہینے میں شہر کے آستانہ دستگیر صاحب میں فوج نے خانقاہ میں گھس کر اس کی بے حرمتی کی۔ پچھلے ہی دنوں میرسید ہمدانی کی درگاہ میں عرس کے موقع پر غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا اور عقیدت مند وہاں نہیں جاسکے۔ اور اب جامع مسجد کو پچھلے پانچ ہفتوں سے محصور کر دیا گیا ہے۔ یہ تو خود ہندوستانی آئین کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں مذہبی امور کی آزادی پر زور دیا گیا ہے۔‘
قابل ذکر ہے کہ حضرت بل میں مسلح عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بعد فوج نے انہیں باہر نکالنے کے لئے درگاہ کا محاصرہ کیا تھااور بعد میں عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد محاصرہ ہٹالیا گیا۔ اسی طرح چرار شریف کی درگاہ میں پاکستانی عسکریت پسند ’میجر مست گُل‘ اور اسکے سینکڑوں مسلح ساتھیوں کی موجودگی کے بعد فوج نے آپریشن شروع کیا، جس کے دوران خانقاہ خاکستر ہوگئی اور مست گُل فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ کشمیر اور لداخ کے انتظامی سربراہ مسعود سامون نے اس حوالے سے بتایا ’ نماز کو خواہ مخواہ سیاسی ایشو بنایا جارہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ شرپسند مسجد کے باہر ہنگامہ کریں، وہ پتھر ماریں اور یہاں سے گولی چلے۔ ہم نے لوگوں کی مُوومنٹ کو محدود ضرور کیا ہے، لیکن نماز پر پابندی نہیں ہے۔ پچھلے جمعہ کو اذان بھی ہوئی، لیکن کچھ لوگوں نے نماز نہیں ہونے دی اور کہا کہ جب تک فلاں لیڈر (میرواعظ عمر) گھر میں نظر بند ہیں یہاں نماز نہیں ہوگی۔‘ مسٹر سامون کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے چند ماہ سے غیر اعلانیہ کرفیو کی وجہ سے لوگوں کو جو مشکلات پیش آرہی ہیں، اس پر حکومت کو بھی افسوس ہے، ’لیکن یہ سب کچھ لوگوں کی سلامتی کے لئے ہورہا ہے۔‘ واضح رہے انتخابات کے پانچویں مرحلہ میں سنیچر کو کشمیر اور جموں خطوں کی گیارہ اسمبلی سیٹوں کے لئے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ پچھلے ادوار میں اچھی شرح میں ووٹ پڑے۔ دریں اثنا علیحدگی پسندوں کی طرف سے مظاہروں کی کال کے پیش نظر پوری وادی میں سیکورٹی انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر: الیکشن کا چوتھا مرحلہ07 December, 2008 | انڈیا پاک بھارت کشیدگی، رائس پاکستان میں04 December, 2008 | انڈیا ہند- پاک کشیدگی کی طرف 01 December, 2008 | انڈیا ’ہم دل سے ووٹ نہیں ڈالتے‘30 November, 2008 | انڈیا ’رخنہ موسم ڈال سکتا ہے‘12 November, 2008 | انڈیا یواین : بھٹو قتل کی جانچ کے لیے تیار31 October, 2008 | انڈیا کشمیر میں دوسرے دن بھی کرفیو07 November, 2008 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||