BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 November, 2008, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: الیکشن کا تیسرا مرحلہ

کشمیر
پولنگ کے درمیان کرفیو نافذ کیا گيا ہے۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سترہ نومبر سے جاری مرحلہ وار انتخابات کے تیسرے مرحلے میں سرحدی ضلع کپواڑہ کی پانچ سیٹوں کے لیے اتوار کو ووٹ ڈالے گئے۔

یہاں بھی لوگوں نے بانڈی پورہ اورگاندربل کی طرح علیحدگی پسندوں کی بائیکاٹ کال پر توجہ نہیں دی ، تاہم لوگوں کا اصرار ہے کہ ان کے ووٹ ڈالنے کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ وہ آزادی کی تحریک سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

شدید سردی اور انتہائی کڑے سیکورٹی انتظامات کے دوران لوگوں نے صبح سے ہی پولنگ بوتھوں کا رُخ کیا اور ووٹ ڈالنے کے لیے گھنٹوں لمبی قطاروں میں انتظار کیا۔ لیکن انتخابات کے پچھلے مرحلوں کی طرح آج بھی سرینگر اور دوسرے قصبوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا جسکے باعث عام زندگی متاثرہوگئی۔ صوبے کے اعلٰی منتظم مسعود سامون نے کہا کہ کرفیو نافذ نہیں ہے البتہ علیحدگی پسندوں نے الیکشن مخالف ریلی کا جو اعلان کررکھا ہے اس کے پیش نظر ’احتیاطی تدابیر‘ کی گئی ہیں۔

اس دوران ہندواڑہ کے بانڈے محلہ اور چھوٹی پورہ جبکہ کپواڑہ قصبہ کے ترہگام علاقوں میں بعض بستیوں میں علیٰحدگی پسندوں کی بائیکاٹ کال پر عمل کیا اور الیکشن مخالف مظاہرے بھی کیے۔ ترہگام میں مقامی نوجوانوں نے آزادی کے حق میں اور الیکشن کے خلاف جلوس نکالا جسے پولیس نے لاٹھی چارج کے ذریعہ منتشر کیا۔ بعد میں گاؤں کی خواتین نے بھی احتجاجی جلوس نکالا جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ اس واقعہ میں پانچ خواتین جزوی طور پر زخمی ہوگئیں۔

 ’آٹھ لاکھ افواج کی موجودگی میں الیکشن کروا کے حکومت ہند کوئی دعوٰی کرے تو یہ ایک مذاق ہے۔ بڑی تعداد میں فوج موجود ہونے کے باوجود مزید نیم فوجی عملہ طلب کیا گیا، اور بیشتر علیحدگی قیادت کو قید کرلیا گیا، اور باقی لوگوں کو گھروں میں نظربند کیا گیا۔ رہے لوگ، تو انہیں بھی الیکشن کے روز ہاوس اریسٹ کیا جاتا ہے۔ ایسے الیکشن پر حکومت ہند کا عالمی عدالت میں مواخذہ ہونا چاہییے۔
میرواعظ عمر فاروق

ضلع کے پانچ انتخابی حلقوں کپواڑہ، ہندواڑہ، لنگیٹ، لولاب اور کرناہ میں کُل تین لاکھ اکتالیس ہزار ووٹروں کا اندارج ہوا ہے، جوضلع کے اکتّہر اُمیدواروں کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کرینگے۔ ضلع میں مقتول علٰیحدگی پسند رہنما عبدالغنی لون کی بیٹی سمیت پانچ خواتین بھی الیکشن لڑ رہی ہیں۔

واضح رہے کرناہ انتخابی حلقہ برفباری کی وجہ سے باقی صوبے سے کٹ کے رہ گیا ہے اور وہاں تک جانے کا فی الوقت کوئی زمینی راستہ نہیں ہے۔ تاہم حکام نے بتایا کہ وہاں بھی اچھی شرح میں ووٹ پڑے۔

کانگریس صدر سونیا گاندھی کے فرزند اور ممبر پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ٹنگڈار اور کرناہ میں پارٹی کے لیے حالیہ دنوں مہم چلائی تھی۔

اِدھر علیحدگی پسندوں نے پھر ایک بار ان انتخابات کو’غیر معتبر‘ قرار دے کر عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر کے زمینی حقائق جاننے کے لیے یہاں ’امن مشن‘ روانہ کرے۔ میرواعظ عمرفاروق جو پچھلے کئی ہفتوں سے اپنے ہی گھر میں نظر بند ہیں، نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ’آٹھ لاکھ افواج کی موجودگی میں الیکشن کروا کے حکومت ہند کوئی دعوی ٰ کرے تو یہ ایک مذاق ہے۔ بڑی تعداد میں فوج موجود ہونے کے باوجود مزید نیم فوجی عملہ طلب کیا گیا، اور بیشتر علیحدگی پسند قیادت کو قید کرلیا گیا، اور باقی لوگوں کو گھروں میں نظربند کیا گیا۔ رہے لوگ، تو انہیں بھی الیکشن کے روز ہاوس اریسٹ کیا جاتا ہے۔ ایسے الیکشن پر حکومت ہند کا عالمی عدالت میں مواخذہ ہونا چاہییے۔‘

کپواڑہ کے متعدد ووٹروں سے جب پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے ووٹ ڈال کر علیحدگی پسندوں کو مسترد کر دیا ہے تو ان کا جواب تھا: ’ووٹ تو ہم روزمرہ ضروریات کے لیے ڈالتے ہیں۔ ہم آج بھی ایسے ہی تحریکی ہیں جیسے پہلے تھے۔ کل اگر پھر احتجاجوں کی لہر چلی تو ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ لیکن علیحدگی پسند قیادت کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ ہم ووٹ کس لیے ڈال رہے ہیں‘

اسی بارے میں
ووٹ پڑے تو؟
22 November, 2008 | انڈیا
کشمیر میں 55 فیصد پولنگ
17 November, 2008 | انڈیا
عثمان مجید سے انٹرویو
17 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد