پہلے کارروائی پھر بہتر تعلقات: انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کانگریس کی انتخابی مہم کے سلسلے میں منگل کو سرینگر کے ایک روزہ دورے پر آئے بھارتی وزیر خارجہ پرنب مُکھرجی نے انکشاف کیا کہ دہشت گردی میں ملوث پاکستانی افراد اور اداروں کے حوالے سے حکومت پاکستان کو کئی مرتبہ ثبوت فراہم کیا جا چکا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبئی پر دہشت گردانہ حملوں سے گو کہ کشمیر کا انتخابی عمل متاثر نہیں ہوا ہے تاہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار سالہ امن عمل بقول ان کے ’pause‘ یعنی 'وقفہ' کا شکار ہے اور جب تک پاکستان اس کے یہاں موجود دہشت گرد ڈھانچہ کے خاتمہ میں پہل نہ کرے تب تک تعلقات کی بہتری ممکن نہیں ہے۔ مسٹر مکھرجی نے کہا’بھارت کو پاکستان کی طرف سے کافی یقین دہانیاں مل رہی ہیں لیکن ہم یقین دہانیوں کا نہیں پاکستان کی طرف سے وہاں موجود دہشت گردی کے ڈھانچہ کے خلاف عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔‘ وزیردفاع نے کسی کا نام لیے بغیر دس سال قبل انڈین ائر لائنز کے آئی سی 814 کی اغواکاری کو عالمی جُرم قرار دیا اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ جن چالیس افراد کی فہرست اسے سونپی گئی ہے ان میں سے کچھ بھارتی شہری ہیں اور یہاں جُرم کرنے کے بعد انہوں نے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ طیارے کو بعض نامعلوم مسلح افراد نے نیپال سے اغوا کر کے قندہار میں اتار دیا تھا اور مسافروں کی بحفاظت رہائی کے عوض اُس وقت کے وزیرخارجہ جسونت سنگھ نے جیش محمد کے کمانڈر مولانا مسعود اظہر اور کشمیری عسکریت پسند مشتاق زرگر سمیت پانچ عسکری کمانڈروں کو جہاز پر بٹھا کر قندہار میں رہا کیا تھا۔ مسٹر مُکھرجی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی سرزمین پر ابھی بھی دہشت گردی کا ڈھانچہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا ’پاکستان کو سابق صدر پرویز مشرف کا جنوری دو ہزار دو اور زرداری کا چوبیس ستمبر کا وعدہ نبھانا ہوگا، جس میں دونوں نے یکساں لہجہ میں کہا تھا کہ پاکستان کی سرزمین کو پڑوسیوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘ پاکستان کی طرف سے ناکافی ثبوت کی فراہمی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مسٹر مکھرجی نے کہا’ ہم نے باقاعدہ ثبوت دیا ہے اور کئی مرتبہ دیا ہے۔‘ واضح رہے اتوار کو بھارتی وزیراعظم نے بھی جنوبی کشمیر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران پاکستان کو خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ’ پاکستان کے ساتھ تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔‘ |
اسی بارے میں ’کارروائی کا منصوبہ نہیں‘16 December, 2008 | انڈیا ’ضروری جانکاری تفتیش کے بعد‘ 13 December, 2008 | انڈیا حملہ آور پاکستان سے آئے: مکھرجی03 December, 2008 | انڈیا ’منصوبہ سازوں کو بے نقاب کریں‘03 December, 2008 | انڈیا تحقیقات میں مدد کرنے کا اعلان30 November, 2008 | انڈیا ’ایک دہشت گرد حراست میں‘28 November, 2008 | انڈیا ممبئی: سینکڑوں افراد زیرعلاج ہیں29 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||