BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 December, 2008, 14:16 GMT 19:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پہلے کارروائی پھر بہتر تعلقات: انڈیا

پرنب مکھرجی
پرنب مکھرجی کا کہنا ہے مولانا مسعود اظہر کو ہندوستان کے حوالے کرنے میں پاکستان ہچکچا کیوں رہا ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کانگریس کی انتخابی مہم کے سلسلے میں منگل کو سرینگر کے ایک روزہ دورے پر آئے بھارتی وزیر خارجہ پرنب مُکھرجی نے انکشاف کیا کہ دہشت گردی میں ملوث پاکستانی افراد اور اداروں کے حوالے سے حکومت پاکستان کو کئی مرتبہ ثبوت فراہم کیا جا چکا ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبئی پر دہشت گردانہ حملوں سے گو کہ کشمیر کا انتخابی عمل متاثر نہیں ہوا ہے تاہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار سالہ امن عمل بقول ان کے ’pause‘ یعنی 'وقفہ' کا شکار ہے اور جب تک پاکستان اس کے یہاں موجود دہشت گرد ڈھانچہ کے خاتمہ میں پہل نہ کرے تب تک تعلقات کی بہتری ممکن نہیں ہے۔

مسٹر مکھرجی نے کہا’بھارت کو پاکستان کی طرف سے کافی یقین دہانیاں مل رہی ہیں لیکن ہم یقین دہانیوں کا نہیں پاکستان کی طرف سے وہاں موجود دہشت گردی کے ڈھانچہ کے خلاف عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔‘

وزیردفاع نے کسی کا نام لیے بغیر دس سال قبل انڈین ائر لائنز کے آئی سی 814 کی اغواکاری کو عالمی جُرم قرار دیا اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ جن چالیس افراد کی فہرست اسے سونپی گئی ہے ان میں سے کچھ بھارتی شہری ہیں اور یہاں جُرم کرنے کے بعد انہوں نے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے۔

عملی اقدامات چاہیئں
 بھارت کو پاکستان کی طرف سے کافی یقین دہانیاں مل رہی ہیں لیکن ہم یقین دہانیوں کا نہیں پاکستان کی طرف سے وہاں موجود دہشت گردی کے ڈھانچہ کے خلاف عملی اقدامات کے منتظر ہیں
پرنب مکھرجی

واضح رہے کہ مذکورہ طیارے کو بعض نامعلوم مسلح افراد نے نیپال سے اغوا کر کے قندہار میں اتار دیا تھا اور مسافروں کی بحفاظت رہائی کے عوض اُس وقت کے وزیرخارجہ جسونت سنگھ نے جیش محمد کے کمانڈر مولانا مسعود اظہر اور کشمیری عسکریت پسند مشتاق زرگر سمیت پانچ عسکری کمانڈروں کو جہاز پر بٹھا کر قندہار میں رہا کیا تھا۔

مسٹر مُکھرجی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی سرزمین پر ابھی بھی دہشت گردی کا ڈھانچہ موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا ’پاکستان کو سابق صدر پرویز مشرف کا جنوری دو ہزار دو اور زرداری کا چوبیس ستمبر کا وعدہ نبھانا ہوگا، جس میں دونوں نے یکساں لہجہ میں کہا تھا کہ پاکستان کی سرزمین کو پڑوسیوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

پاکستان کی طرف سے ناکافی ثبوت کی فراہمی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مسٹر مکھرجی نے کہا’ ہم نے باقاعدہ ثبوت دیا ہے اور کئی مرتبہ دیا ہے۔‘

واضح رہے اتوار کو بھارتی وزیراعظم نے بھی جنوبی کشمیر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران پاکستان کو خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ’ پاکستان کے ساتھ تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔‘

ممبئیبھارتی خفیہ ایجنسیاں
پورا نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے
 مارک ٹلیمارک ٹلی کہتے ہیں
جہاز ہچکولے کھاتا رہتا ہے مگر ڈوبتا نہیں
ہند - پاک کشیدگی
ممبئی حملوں کے بعد ہند پاک رشتے کشیدہ
وہ ساٹھ گھنٹے ۔ ۔
جب ممبئی کی روح یرغمال بنی ہوئی تھی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد