ممبئی میں انٹرپول کی تفتیش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرپول کی پانچ رکنی ٹیم نے سوموار کو ممبئی کرائم برانچ چیف جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا سے ملاقات کی اور ان سے اجمل امیر قصاب سمیت ان ہلاک شدہ نو حملہ آوروں کی تفصیلات جمع کیں جن کے بارے میں ممبئی پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ سب پاکستانی ہیں۔ انٹرپول کے یہ پانچ اراکین آج شام ممبئی کرائم برانچ ہیڈ کوارٹر پہنچے جہاں ماریا سے ان کی ملاقات ڈیڑھ گھنٹہ تک چلتی رہی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران ماریا نے انہیں وہ تمام ثبوت دیے جو پولیس کے مطابق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ حملہ آور پاکستانی ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے نو حملہ آوروں کے ڈی این اے ، اور انگلیوں کے نشانات کے ساتھ ہی کچھ اور ثبوت بھی انٹرپول کو دئیے ہیں۔ ممبئی پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ ممبئی کرائم برانچ پاکستان جا کر تفتیش نہیں کر سکتی ہے اس لیے وہ انٹرپول کی مدد لے رہی ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ انٹرپول پاکستان میں موجود اپنی ونگ کے ذریعہ تحقیقات کرے اور ممبئی پولیس کے دعویٰ کو سچ ثابت کرنے میں اس کی مدد کرے۔ ممبئی پولیس اس کے بعد سی بی آئی کے ذریعہ ثبوت کی روشنی میں انٹرپول سے بلیک نوٹس جاری کرنے کی اپیل کرے گی۔ دریں اثناء امریکی تفتیشی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن نے پولیس تحویل میں موجود اجمل امیر قصاب سے پورے نو گھنٹہ تفتیش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی نے اپنی تفتیش میں اجمل سے اس کے محلے، گلی اور دیگر چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھی ہیں تاکہ اس کی روشنی میں وہ تفتیش کر سکیں۔ ممبئی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس موجودہ ثبوت اور اجمل کے مبینہ اقبالیہ بیان کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ حملہ آور پاکستانی تھے۔ ممبئی پولیس اور ہندوستانی حکومت کے اس دعوی کو پاکستان نے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں دہشتگردی مخالف نیا قانون – ضرورت یا دباؤ؟20 December, 2008 | انڈیا تاج اور ٹرائیڈینٹ-اوبیروئے آج کھل رہے ہیں21 December, 2008 | انڈیا ’پولیس کی غلطی سے جانیں گئیں‘21 December, 2008 | انڈیا مہمان اداس بھی، خوش بھی21 December, 2008 | انڈیا ’کارروائی کریں ورنہ آپشن کھلے ہیں‘22 December, 2008 | انڈیا دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||