BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 December, 2008, 11:01 GMT 16:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشتگردی مخالف نیا قانون – ضرورت یا دباؤ؟

 کمانڈو کاروائی
پارلیمنٹ میں ایک دن کی بحث کے بعد اسے سبھی جماعتوں نے آسانی سے منظور بھی کر لیا
دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک سخت قانون لائے جانے کی ایک عرصے سے مخالفت کرنے والے قومی ترقی پسند اتحاد کی حکومت نے ممبئی پر ہوئے دہشتگردانہ حملے کے ایک مہینہ پورے ہونے سے پہلے ہی دہشتگردی مخالف قانون پارلیمان میں پیش کر دیا ہے۔

پارلیمنٹ میں ایک دن کی بحث کے بعد اسے سبھی جماعتوں نے آسانی سے منظور بھی کر لیا۔ اسی کے ساتھ یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ کیا موجودہ حالات میں ملک کو دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کے لیے نئے اور سخت قسم کے قانون کی ضرورت ہے؟

پنجاب پولیس کے سابق ڈائرکٹر جنرل کے ایس ڈھلن کے مطابق’دہشتگردی کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے قانون ضروری ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس قانون کو بہتر طریقے سے عمل میں لایا جا سکے۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ ممبئی پر ہوئے دہشتگردانہ حملے کے بعد سخت قانون لانا بے حد ضروری تھا لیکن حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ممبئی حملے کے لیے خفیہ ایجسنیاں بھی کافی حد تک ذمےدار ہیں۔ ایسے میں نیا قانون کی اہمیت کس حد تک جائز ہے؟

قانون کی ضرورت
 دہشتگردی کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے قانون ضروری ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس قانون کو بہتر طریقے سے عمل میں لایا جا سکے۔
پنجاب پولیس کے سابق ڈائرکٹر جنرل کے ایس ڈھلن
انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولکھا کے مطابق حکومت نے یہ قدم خود پر پڑ رہے دباؤ کے سبب اٹھایا ہے۔’یہ بات گلے سے نہيں اترتی ہے کہ ممبئی حملوں کو وجہ بتا کر سخت قانون لايا گیا ہے۔ سخت قانون کی آڑ میں کیا ہوتا ہے اس کا ہمارا تلخ تجربہ رہا ہے۔ ‘

دہشتگردی کا مقبلہ کرنے کے لیے ملک میں اس سے قبل انسیس سو ستاسی میں ٹاڈا یعنی Terrorism and Disruptive Prevention Act تھا اور اس کے بعد دو ہزار دو میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی والی قومی جمہوری محاذ کی حکومت پوٹا یعنی پریونشن آف ٹرریزم ایکٹ لے کر آئی تھی۔

موجودہ قومی ترقی پسند اتحاد کی حکومت نے ہی پوٹا کو دو ہزار چار میں واپس لے لیا تھا۔ دونوں قوانین پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر سیکولر شخصیات نے سوالات اٹھائے اور یہ بھی الزام عائد کیا گيا ہے کہ قانون کے تحت ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

غلط استعمال
 اس بات سے کوئی انکار نہيں کر سکتا کہ ہماری پولیس فرقہ پرست ہے، چاہے وہ حیدرآباد کے دھماکے ہوں یا پھر کوئی اور، جو حشر ٹاڈا اور پوٹا کا ہوا وہی حال اس قانون کا بھی ہوگا
سرکردہ وکیل آور آئین کی ماہر ورندا گرور
جماعت اسلامی کے صدر جلال الدین عمری نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے قانون کا استعمال بھی اقلیتی طبقوں کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔ ’ہندوستان کے آئین نے شہریوں کو جو بنیادی حقوق فراہم کیے ہيں یہ اس قانون اس کے خلاف ہے۔ اسی لیے ہماری سپریم کورٹ نے ایسے قانون پسند نہيں کیے۔ اندیشہ یہی ہے کہ جن لوگوں کے خلاف اس قانون کے تحت کاروائی کی جائے گی وہ اس کے خلاف ردعمل ظاہر کريں گے جو ملک کے لیے مناسب نہيں ہوگا۔‘

امریکہ میں دو ہزار ایک میں ہوئے حملے کے بعد وہاں دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی قانون بنایا گیا۔ اسی طرح برطانیہ اور دیگر مماملک میں بھی اسی طرز پر قانون بنائے گئے۔

لیکن سرکردہ وکیل اور آئین کی ماہر ورندا گرور کے مطابق ہندوستان اور مغربی ممالک کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ہندوستان کا سماجی نظام بہت پیچیدہ ہے۔’اس بات سے کوئی انکار نہيں کر سکتا کہ ہماری پولیس فرقہ پرست ہے، چاہے وہ حیدرآباد کے دھماکے ہوں یا پھر کوئی اور، جو حشر ٹاڈا اور پوٹا کا ہوا وہی حال اس قانون کا بھی ہوگا۔‘

سخت قانون بنانا خواہ کچھ کاروائی کرنے کے لیے عوامی دباؤ کا نتیجہ ہو یا پھر حالات کی ضرورت، لیکن عوام کی حفاظت کے نام پر ان کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کرنا کس حد تک جائز ہے، اس سوال کے لیے بھی حکومت ہی جواب دہ ہے۔

کرکرے کا قاتل کون؟
ہیمنت کرکرے کی موت پر سوالیہ نشان
اجمل امیر قصاباجمل کا ’اقبالی بیان‘
ممبئی حملوں میں بچ جانے والے ملزم کا بیان
ممبئیبھارتی خفیہ ایجنسیاں
پورا نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے
 مارک ٹلیمارک ٹلی کہتے ہیں
جہاز ہچکولے کھاتا رہتا ہے مگر ڈوبتا نہیں
دھماکوں کے بعد
خراج عقیدت، امن کی امیدیں
اسی بارے میں
بھارت میں ملا جلا ردِ عمل
11 December, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد