دہشتگردی مخالف نیا قانون – ضرورت یا دباؤ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک سخت قانون لائے جانے کی ایک عرصے سے مخالفت کرنے والے قومی ترقی پسند اتحاد کی حکومت نے ممبئی پر ہوئے دہشتگردانہ حملے کے ایک مہینہ پورے ہونے سے پہلے ہی دہشتگردی مخالف قانون پارلیمان میں پیش کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں ایک دن کی بحث کے بعد اسے سبھی جماعتوں نے آسانی سے منظور بھی کر لیا۔ اسی کے ساتھ یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ کیا موجودہ حالات میں ملک کو دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کے لیے نئے اور سخت قسم کے قانون کی ضرورت ہے؟ پنجاب پولیس کے سابق ڈائرکٹر جنرل کے ایس ڈھلن کے مطابق’دہشتگردی کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے قانون ضروری ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس قانون کو بہتر طریقے سے عمل میں لایا جا سکے۔‘ حکومت کا کہنا ہے کہ ممبئی پر ہوئے دہشتگردانہ حملے کے بعد سخت قانون لانا بے حد ضروری تھا لیکن حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ممبئی حملے کے لیے خفیہ ایجسنیاں بھی کافی حد تک ذمےدار ہیں۔ ایسے میں نیا قانون کی اہمیت کس حد تک جائز ہے؟
دہشتگردی کا مقبلہ کرنے کے لیے ملک میں اس سے قبل انسیس سو ستاسی میں ٹاڈا یعنی Terrorism and Disruptive Prevention Act تھا اور اس کے بعد دو ہزار دو میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی والی قومی جمہوری محاذ کی حکومت پوٹا یعنی پریونشن آف ٹرریزم ایکٹ لے کر آئی تھی۔ موجودہ قومی ترقی پسند اتحاد کی حکومت نے ہی پوٹا کو دو ہزار چار میں واپس لے لیا تھا۔ دونوں قوانین پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر سیکولر شخصیات نے سوالات اٹھائے اور یہ بھی الزام عائد کیا گيا ہے کہ قانون کے تحت ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکہ میں دو ہزار ایک میں ہوئے حملے کے بعد وہاں دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی قانون بنایا گیا۔ اسی طرح برطانیہ اور دیگر مماملک میں بھی اسی طرز پر قانون بنائے گئے۔ لیکن سرکردہ وکیل اور آئین کی ماہر ورندا گرور کے مطابق ہندوستان اور مغربی ممالک کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ہندوستان کا سماجی نظام بہت پیچیدہ ہے۔’اس بات سے کوئی انکار نہيں کر سکتا کہ ہماری پولیس فرقہ پرست ہے، چاہے وہ حیدرآباد کے دھماکے ہوں یا پھر کوئی اور، جو حشر ٹاڈا اور پوٹا کا ہوا وہی حال اس قانون کا بھی ہوگا۔‘ سخت قانون بنانا خواہ کچھ کاروائی کرنے کے لیے عوامی دباؤ کا نتیجہ ہو یا پھر حالات کی ضرورت، لیکن عوام کی حفاظت کے نام پر ان کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کرنا کس حد تک جائز ہے، اس سوال کے لیے بھی حکومت ہی جواب دہ ہے۔ |
اسی بارے میں ’ضروری جانکاری تفتیش کے بعد‘ 13 December, 2008 | انڈیا بھارت میں ملا جلا ردِ عمل11 December, 2008 | انڈیا ’یہ ایک جنگی صورت حال ہے‘11 December, 2008 | انڈیا ’ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا‘ 09 December, 2008 | پاکستان ’کارروائی، تفتیش ہو رہی ہے‘10 December, 2008 | انڈیا ’زکی لکھوی اور مسعود اظہرگرفتار‘09 December, 2008 | پاکستان ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’جماعتہ الدعوۃ پر پابندی لگائی جائے‘10 December, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||