کرکرے کی موت پرسوالیہ نشان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور عبدالرحمن انتولے نے اینٹی ٹیررازم سکواڈ کے چیف ہیمنت کرکرے کی موت پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے اس کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق اے ٹی ایس چیف کرکرے اور ان کے ساتھ مزید دو اعلیٰ پولیس افسران اشوک کامٹے اور وجے سالسکر کو چھبیس نومبر کے ممبئی حملے میں مبینہ طور پر دو دہشت گردوں اجمل امیر قصاب اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل خان نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ انتولے کا یہ بیان اس وقت پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گیا ہے اور دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے انتولے کے اس بیان پر وزیراعظم منموہن سنگھ سے بھی وضاحت طلب کی ہے۔ انتولے نے بدھ کے روز پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے کہا کہ انہیں ہیمنت کرکرے کی موت پر شبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکرے دہشت گردی کا شکار ہوئے یا پھر دہشت گردی اور اس کے علاوہ کچھ اور، وہ نہیں جانتے لیکن ان کی موت کی تحقیقات ہونی چاہئے۔
انتولے نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ کرکرے جیسا افسر تاج ہوٹل، اوبیرائے ہوٹل یا ناریمان ہاؤس جانے کے بجائے کاما ہسپتال کی گلی میں کیوں گیا؟ انتولے نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ایک ہی گاڑی میں تین اعلی پولیس افسران کیوں گئے جبکہ یہ پروٹوکول کے خلاف ہے۔انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر انہیں وہاں جانے کی اجازت کس نے دی تھی؟ حزب اختلاف نے انتولے کے بیان کے فورا بعد ہی پارلیمنٹ میں ہنگامہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتولے نے ایک اعلیٰ افسر کی شہادت پر انگلی اٹھائی ہے اس لیے وہ معافی مانگیں لیکن انتولے اپنے بیان پر اڑے رہے۔ البتہ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے کہا کہ یہ بیان انتولے کا اپنا ذاتی بیان ہے اور کانگریس اس سے متفق نہیں ہے۔ ہمینت کرکے کی موت کے فوری بعد سے ہی ریاست مہاراشٹر کی مسلم اور چند سیکولر تنظیموں نے شبہ کا اظہار کیا تھا۔ ایڈوکیٹ امین سولکر نے ممبئی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کی ہے جس میں انہوں نے کرکرے کی موت پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ اپنی عرضی میں انہوں نے کہا ہے کہ ہیمنت کرکرے کو ان کی موت سے قبل جان سے مارنے کی دھمکی کا فون موصول ہوا تھا۔
سولکر کے مطابق ہیمنت آئندہ چند دنوں میں اس پوری سازش کو بے نقاب کرنے والے تھے اور ایسے میں ان کی موت شک و شبہ پیدا کرتی ہے۔ مالیگاؤں میں مسلم تنظیمیں ہیمنت کرکرے کی گرویدہ ہو چکی تھیں کیونکہ انہی کی تفتیش کی وجہ سے اس دھماکے کے پیچھے ہندو تنظیموں کی سازش بے نقاب ہوئی تھی۔ مالیگاؤں میں کل جماعتی تنظیم کے صدر مولانا عبدالحمید ازہری جنہوں نے ہیمنت کرکے کی موت کے بعد ان کے گھر جا کر پرسہ دیا تھا کہا کہ پہلے ہی دن سے تنظیم کو کرکرے کی موت پر شبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیمنت کرکے کی تحقیقات کچھ بااثر لوگوں کی گردن کے گرد پھندا کسنے والی تھی، اس لیے شاید انہوں نے ہی ان کی موت کی سازش رچی۔ مولانا کے مطابق یہ لوگ بیرون ملک سے ان کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں، ہو سکتا ہے اس میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد جیسی تنظیم کا ہاتھ ہو۔ سماجی رضاکار اور ایڈوکیٹ مہر دیسائی کے مطابق صرف ہیمنت کرکے کی موت ہی نہیں بلکہ اس پورے معاملہ کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر چھوٹے معاملہ پر تحقیقاتی کمیشن بٹھا دیا جاتا ہے تو پھر اس معاملہ میں یہ خاموشی کیوں؟ البتہ شیوسینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتولے کے اس بیان کی سخت مذمت کی۔ شیوسینا لیڈر سنجے راؤت کا کہنا تھا کہ انتولے نے ہیمنت کرکرے جیسے افسر کی موت پر نکتہ چینی کر کے ان کی شہادت کی بے عزتی کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہیمنت کو پاکستانی دہشت گرد اجمل قصاب نے مارا ہے اور وہ پولیس کی حراست میں ہے۔ |
اسی بارے میں سابق فوجیوں نے تربیت دی: کمشنر02 December, 2008 | انڈیا پاکستان بیس افراد حوالے کرے: انڈیا02 December, 2008 | انڈیا ’قابل عمل‘اطلاع نہیں ملی:بحریہ 03 December, 2008 | انڈیا گرفتار شدت پسند کا نارکو ٹیسٹ 05 December, 2008 | انڈیا قصاب 24 دسمبر تک حراست میں 11 December, 2008 | انڈیا دستی بم ’پاکستانی‘ کمپنی کے ہیں11 December, 2008 | انڈیا پاکستان کو لاشیں دینے کے لیے انٹرپول17 December, 2008 | انڈیا بہتر سکیورٹی نظام، بل منظور ہوگیا17 December, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||