’کرکرے کی موت سازش نہیں تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور عبدالرحمن انتولے کے اینٹی ٹیررازم سکواڈ کے چیف ہیمنت کرکرے کی موت سے متعلق بیان پر حکومت نے منگل کو لوک سبھا میں صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ہیمنت کرکرے کی موت سازش نہیں تھی۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت کے بیان کی سخت مخالفت کی، نعرے بازی کی اور لوک سبھا سے واک آؤٹ کیا۔ حکومت کی جانب سے بیان پڑھنے کی کوشش وزیر داخلہ پی چدمبرام نے کی لیکن حزب اختلاف کی جانب سے مخالفت اور شو شرابے کی وجہہ سے بیان پورا پڑھے بغیر پیش کر دیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر لال کرشن آڈوانی کا کہنا تھا کہ انہیں بیان کی ایک کاپی ملی ہے جس میں حکومت نے کرکرے کی موت کے واقعہ کی تفصیلات بتائی ہیں نہ کہ انتولے کے بیان پر کوئی صفائی یا ان کے خلاف کارراوئی کے بارے میں بتایا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ انتولے کا بیان ایک قومی شرمندگی کا باعث ہے اور ہیمنت کرکرے کی موت کی از ثرنو تفتیش کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہیمنت کرکرے شدت پسندوں کی گولی کا نشانہ بنے تھے۔ انتولے نے گزشتہ ہفتے بدھ کو پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے کہا کہ انہیں ہیمنت کرکرے کی موت پر شبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکرے دہشت گردی کا شکار ہوئے یا پھر دہشت گردی اور اس کے علاوہ کچھ اور، وہ نہیں جانتے لیکن ان کی موت کی تحقیقات ہونی چاہیں۔ انتولے نے کہا تھا کہ کرکرے مالیگاؤں دھماکے کی تفتیش کر رہے تھے اور انہوں نے اپنی تحقیقات میں ثابت کیا تھا کہ یہ دھماکے غیرمسلموں نے کیے تھے۔ انتولے نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ کرکرے جیسا افسر تاج ہوٹل، اوبیرائے ہوٹل یا ناریمان ہاؤس جانے کے بجائے کاما ہسپتال کی گلی میں کیوں گیا؟ انتولے نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ایک ہی گاڑی میں تین اعلیٰ پولیس افسران کیوں گئے جبکہ یہ پروٹوکول کے خلاف ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر انہیں وہاں جانے کی اجازت کس نے دی تھی؟ حزب اختلاف نے انتولے کے بیان کے فورا بعد ہی پارلیمنٹ میں ہنگامہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتولے نے ایک اعلیٰ افسر کی شہادت پر انگلی اٹھائی ہے اس لیے وہ معافی مانگیں لیکن انتولے اپنے بیان پر اڑے رہے۔ |
اسی بارے میں سابق فوجیوں نے تربیت دی: کمشنر02 December, 2008 | انڈیا پاکستان بیس افراد حوالے کرے: انڈیا02 December, 2008 | انڈیا ’قابل عمل‘اطلاع نہیں ملی:بحریہ 03 December, 2008 | انڈیا گرفتار شدت پسند کا نارکو ٹیسٹ 05 December, 2008 | انڈیا قصاب 24 دسمبر تک حراست میں 11 December, 2008 | انڈیا دستی بم ’پاکستانی‘ کمپنی کے ہیں11 December, 2008 | انڈیا پاکستان کو لاشیں دینے کے لیے انٹرپول17 December, 2008 | انڈیا بہتر سکیورٹی نظام، بل منظور ہوگیا17 December, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||