’حکومت بھارت کے دباؤ میں نہ آئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے ممبئی حملوں کے پس منظر میں بھارت کے ساتھ بڑھتی کشیدگی سے پیدا شدہ صورتحال پر سرکاری مؤقف کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منگل کو بھارت کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے مختلف جماعتوں کی نمائندگی کرنے والے ارکان نے سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو کر اس معاملے پر حکومتی مؤقف کی حمایت کی۔ ارکان پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لئے ممبئی حملوں کا سارا الزام پاکستان پر عائد کر رہی ہے۔ ارکان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس دباؤ میں نہ آئے اور یہ کہ پوری سیاسی قیادت اس مسئلے پر حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ سینیٹ میں قومی سلامتی کے موضوع پر تو بحث پہلے سے جاری تھی جبکہ قومی اسمبلی میں منگل کے روز قواعد کو معطل کر کے اس بحث کے لئے گنجائش نکالی گئی۔ قواعد معطل کر کے اس موضوع پر بحث کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ رواں اجلاس کے ختم ہونے سے قبل اس موضوع پر بحث ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ اسی موضوع پر بحث کر چکی ہے اور اگر پاکستانی پارلیمنٹ نے اس مسئلے کو اہمیت نہ دی تو اس سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوگی۔ سپیکر قومی اسمبلی نے اس موقع پر کہا کہ نہ صرف اس مسئلہ کو زیر بحث لایا جائے بلکہ اس بحث کے اختتام پر مشترکہ قرارداد کے ذریعے ایک مثبت پیغام بھی بیرونی دنیا کو بھیجا جائے۔ قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے مسلم لیگ قاف کی رکن بیگم عطیہ عنایت اللہ نے کہا کہ ممبئی حملے بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور وہ محض پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لئے ہم پر الزام تراشیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا جارحانہ طرز عمل ’اکھنڈ بھارت‘ کی خواہش کا نتیجہ ہے۔ مسلم لیگ نواز کے شیخ آفتاب نے کہا کہ حکومت کو بھارت کی دھمکیوں سے ڈرنے کے بجائے ڈٹ کر کھڑے ہو جانا چاہئے کیونکہ اس موقع پر کمزوری دکھانے کا مطلب جنگ سے پہلے ہی شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا۔ جماعت اسلامی کے سینٹیر اعظم سواتی نے سینیٹ میں جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ممبئی حملے دراصل پاکستان کے خلاف سازش ہیں۔ بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو دہشت گردی کے واقعے کا ذمہ دار ٹھہرانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ مسلم لیگ ق کے سینیٹر وسیم سجاد نے کہا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی ہو رہی ہے اور ممبئی حملے اسی کا تسلسل ہیں۔ یہ حملے بہت افسوسناک تھے لیکن انوکھے نہیں تھے۔ پاکستان بھی اس نوعیت کی دہشت گردی کا شکار ہے اور ان دہشت گردوں کے اپنے عزائم ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ شروع23 December, 2008 | پاکستان لاہور میں فوج کے حق میں مظاہرہ22 December, 2008 | پاکستان فضائیہ الرٹ، مولن کا دورۂ پاکستان22 December, 2008 | پاکستان پاک فضائیہ چوکس، مولن اسلام آباد میں 22 December, 2008 | پاکستان ’اجمل کا پاکستانی ہونا یقینی نہیں‘17 December, 2008 | پاکستان فضائی خلاف ورزی پر تشویش18 December, 2008 | پاکستان ’خلاف ورزی فنی نوعیت کی تھی‘14 December, 2008 | پاکستان کیا دعوۃ پر پابندی کچھ کر سکے گی؟ 13 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||