فضائی خلاف ورزی پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے جمعرات کو نائب بھارتی سفیر کو اسلام آباد میں طلب کر کے گزشتہ دنوں بھارتی جنگی طیاروں کی مبینہ سرحدی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے آج اسلام آباد میں جاری ایک مختصر بیان کے مطابق بھارت کے نائب ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ طلب کر کے ایک سفارتی نوٹ ان کے حوالے کیا گیا۔ بیان کے مطابق نوٹ میں حکومتِ پاکستان نے بارہ اور تیرہ دسمبر کو بھارتی جنگی طیاروں کی جانب سے سرحد کی تکنیکی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق جنگی طیاروں کا یہ عمل دونوں ممالک کے درمیان انیس سو اکانوے کی سرحدی خلاف ورزیوں سے روکنے کے معاہدے کی بھی خلاف ورزی تھی۔ دوسری جانب بھارتی حکام اب تک کسی ایسی سرحدی خلاف ورزی سے انکار کرتے رہے ہیں۔ سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ اقدام اس مبینہ خلاف ورزی پر احتجاج نہیں بلکہ محض بھارت کو تشویش سے آگاہ کرنا ہے۔ بھارتی طیاروں کے اس عمل کو پاکستان میں کافی تشویش سے دیکھا جا رہا تھا۔ بعض مبصرین کے خیال میں اس خلاف ورزی کا ایک مقصد پاکستان ردعمل کا جائزہ لینا بھی ہوسکتا تھا۔ | اسی بارے میں ’خلاف ورزی فنی نوعیت کی تھی‘14 December, 2008 | پاکستان ’کارروائی کا منصوبہ نہیں‘16 December, 2008 | انڈیا ’حدود کی خلاف ورزی نہیں کی‘ 14 December, 2008 | پاکستان انڈیا: حدود کی خلاف ورزی کا الزام13 December, 2008 | پاکستان صورتحال کی سنجیدگی کی ایک مثال 13 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||