’اب لوگ کم آتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھترپتی شیواجی ٹرمینس پر واقع ہوٹل ’ری فریش‘ پر اب لوگوں کا ہجوم نہیں رہتا۔ لوگ ٹرین آنے سے محض چند منٹ پہلے ہی آتے ہیں اور فوراً ٹرین پر سوار ہو جاتے ہیں پہلے کی طرح آرام سے ہوٹل میں چائے کی چسکی لیتے ہوئے یا پلیٹ فارم پر آرام سے بیٹھ کر ٹرین کا انتظار نہیں کرتے۔ ہوٹل کے مالک پرمود گپتا کے مطابق اب بزنس پچیس فیصد بھی نہیں رہ گیا کیونکہ لوگ اب بھی خوفزدہ ہیں اور اپنے گھروں سے ٹیلی فون پر ٹرین کا وقت پوچھ کر نکلتے ہیں تاکہ سٹیشن پہنچ جائیں۔ چھبیس نومبر کی اس خونی رات کو سینکڑوں مسافر پلیٹ فارم پر ممبئی سے باہر جانے والی ٹرینوں کا انتظار کر رہے تھے کہ حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر کے پچپن افراد کو ہلاک کر دیا۔ ہوٹل ری فریش کے شیشے اب بھی اس کے گواہ ہیں۔ مالک گپتا نے ابھی چند شیشے تبدیل کیے ہیں لیکن بقیہ کو ابھی تبدیل کرنا باقی ہے۔ پہلے لوگ ان کے ہوٹل میں آرام سے بیٹھ کر ناشتہ کیا کرتے تھے۔ان کا کاروبار بہت اچھا چل رہا تھا۔ جبلپور سے ممبئی آنے والے گپتا نے یہ ہوٹل ریلوے سے کرائے پر لیا ہے۔انہیں امید تھی کہ یہاں روزانہ ہزاروں کا منافع ہو گا اور ہو بھی رہا تھا کہ یہ حادثہ پیش آگیا۔
’میرے ہوٹل پر پندرہ گولیاں فائر ہوئیں جس میں تین گولیاں اوپری منزل پر اور بقیہ چودہ نچلی منزل پر لگیں۔میں نے ہوٹل میں موجود گاہکوں کو زمین پر لیٹ جانے کے لیے کہہ دیا پھر انہیں باورچی خانے میں چھپا دیا تھا اس کے بعد جب وہ دہشت گرد فائرنگ کر کے فرار ہو گئے تو باہر نکل کر اپنے اور ملازموں کے ساتھ مل کر لاشوں کو سینٹ جارج ہسپتال پہنچانے کا کام کیا۔ساڑھے نو سے ساڑھے گیارہ بجے تک یہاں کوئی نظر نہیں آرہا تھا ہمیشہ سکیورٹی گارڈز ہوتے ہیں کوئی سامنے نہیں آیا تھا۔‘ گپتا کو افسوس ہے کہ سی ایس ٹی جہاں سب سے زیادہ خون خرابہ ہوا اس کا ذکر ٹی وی چینلز پر نہیں ہوا۔ نہ اس کے بعد کسی وزیر یا کسی فلم سٹار کی شکل یہاں نظر آئی۔ حملے کے بعد سی ایس ٹی کے پلیٹ فارم پر سے خون کے دھبوں کو صاف کر دیا گیا تھا لیکن گپتا کہتے ہیں کہ دلوں سے خوف اور غصہ ابھی صاف نہیں ہوا ہے۔ ’دو دہشت گرد کہیں سے آئے، حملہ کیا اور درجنوں معصوموں کو موت کے گھاٹ اتار کر چلے گئے۔ کون ذمہ دار ہے ؟ ہم میں کہیں کمی ہے اور یہ سب بند نہیں ہوا تو عام آدمی کے لیے جینا مشکل ہو جائے گا۔‘ سی ایس ٹی اس وقت فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا ہے۔اس حملے کے فوراً بعد آر پی ایف اور آر پی ایس ایف کے جوان بلٹ پروف جیکٹ اور ایس ایل آر کے ساتھ وہاں موجود رہتے ہیں۔ میٹل ڈیٹیکٹر لگے ہیں اور پولیس ہر ایک کے سامان کی جانچ کے ساتھ سکریننگ کر رہی ہے۔ریلوے انسپکٹر جنرل کے پی رگھوونشی کے مطابق ریلوے حفاظتی عملہ خصوصی فورس کے ساتھ سادے لباس میں بھی پولیس جوان گشت کر رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق سی ایس ٹی پر چھبیس نومبر کے روز رات ساڑھے نو بجے کے قریب اجمل امیر قصاب اور اسماعیل خان نے اپنی اے کے 47 رائفل سے حملہ کیا تھا جس میں پچپن افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔اجمل کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ اب پولیس حراست میں ہے۔ |
اسی بارے میں ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا ساٹھ گھنٹے: ممبئی کی روح یرغمال رہی29 November, 2008 | انڈیا ’کارروائی میں تاخیر نہیں ہوئی‘30 November, 2008 | انڈیا ’موت کودیکھا پھراس کے منہ سے باہرنکلے‘01 December, 2008 | انڈیا انڈین وزیر: حملہ آور پاکستانی تھے، گیلانی کا غیر ملکی دورہ منسوخ30 November, 2008 | انڈیا ناری من ہاؤس: رہائشیوں پر کیاگزی 30 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||