انڈین وزیر: حملہ آور پاکستانی تھے، گیلانی کا غیر ملکی دورہ منسوخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے کہا ہے کہ اب یہ بات طے ہے کہ ممبئی میں مختلف مقامات پر حملے کرنے والے افراد میں سے تقریباً سبھی کا تعلق پاکستان سے تھا۔ نائب وزیر داخلہ شکیل احمد نےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کو ایک پاکستانی جزیرے پر تربیت فراہم کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق جس ایک حملہ آور کو گرفتار کیا گیا ہے، اس نے اپنا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا ہے لیکن سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حملوں کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم من موہن سنگھ نےکہا تھا کہ ان حملوں کی کڑیاں پاکستان تک جاتی ہیں۔ مسٹر شکیل احمد نے اعتراف کیا کہ مہارشٹر کی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان تال میل کی کمی رہی۔
ادھر، حملوں کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے پس منظرمیں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہانگ کانگ کا اپنا چار روزہ سرکاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ وزیراعظم کے پریس سیکرٹری زاہد بشیر نے وزیراعظم کی روانگی سے کچھ دیر قبل دورے کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ممبئی بم دھماکوں کے بعد بھارت کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد وزیراعظم نے اپنا غیر ملکی دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔ ادھر لاہور میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ممبئی دھماکوں کے بعد بھارت نے پاکستان کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا ہے وہ سفارتی آداب سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کویہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے کسی ادارے کے کسی عہدیدار کو بھارت میں طلب کرنے کی بات کرے۔ ان کے بقول یہ فیصلہ حکومت پاکستان کو کرنا ہے کہ اسے تحقیقات میں بھارت کے ساتھ تعاون کے لیے کس سطح پر کیا کردار ادا کرنا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ جس وقت یہ دھماکے ہوئے اس وقت پاکستانی وزیر خارجہ بھارت میں تھے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے معاہدے ہورہے تھے ۔ ان کے بقول ایسی صورت حال میں پاکستان کو کیاضرورت ہے کہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقاقات کے لیے جو سفارتی کوشش ہورہی ہیں ان کو نقصان پہنچایا جائے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہانگ کانگ میں ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی جس کا اہتمام امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کی قائم کردہ غیر سرکاری تنظیم کلنٹن فاؤنڈیشن نے کیا ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک بریفنگ میں بعض اہم سیکیورٹی افسران نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کو الرٹ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پس منظر میں وزیراعظم گیلانی نے ہفتے کی شب ملکی کی اہم سیاسی قیادت کو ٹیلی فون کر کے اس تمام صورتحال کے بارے میں اعتماد میں لیا تھا۔ وزیراعظم نے رات گئے اپنے چینی ہم منصب کو بھی فون کیا تھا جس میں بھارتی ممکنہ عزائم کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
یاد رہے سنیچر کو پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ انڈیا کی جانب سے ممبئی کے شدت پسند حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد پڑوسی ملک کے اس کے تعلقات شدید تناؤ میں ہیں۔ حکومت پاکستان نے ممبئی میں گزشتہ چار روز کے دوران مسلح ہتھیار بندوں کی طرف سے ممبئی کے اہم مقامات پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے جن میں دو سو سے قریب افراد ہلاک ہوئے۔ ممبئی میں شدت پسند حملوں کے تقریباً اٹھاون گھنٹوں کے بعد سنیچر کی صبح تاج ہوٹل میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین شدت پسندوں کے مارے جانے اور آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیاگیا۔ ممبئی کے دو فائیو سٹار ہوٹلوں اور یہودیوں کے مرکز کو شدت پسندوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے ہونے والے آپریش کے خاتمے سے پہلے ہی ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھر جی نے کہا تھا کہ ممبئی پر حملے میں ملوث کچھ عناصر کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن جو ابتدائی ثبوت ملے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اس واقعہ کا پاکستان کے کچھ عناصر سے تعلق ہے۔‘ سنیچر کووفاقی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ یہ بات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ حالات میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کیا جائے۔ صدر آصف علی زرداری نے سنیچر کو رات گئے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی اور ممبئی میں حملوں سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تبادلہِ خیال کیا۔ سنیچر کی شام کو صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران پاکستان کی ایک سیکورٹی ایجنسی کے اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے ابتدائی ثبوت پاکستان کو پیش کر دیے انہوں نے کہا تھا کہ اگر بھارت نے اپنی فوجیں سرحدوں پر بھیجیں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا دے گا۔ جب اعلیٰ سکیورٹی اہلکار سے پوچھا کہ ایسی صورت میں افغان سرحد کا کیا بنے گا تو انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تناؤ کی صورت میں اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو قبائلی خود سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی وزیر دفاع اور مسلح افواج کے سربراہوں سے ملاقات کی۔ دِلی میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیون لائن کے مطابق ملاقات کے دوران بھارتی وزیر اعظم نے انہیں بتایا کہ اگر یہ بات ثابت ہو گئی کہ پاکستان ممبئی حملوں ملوث ہے تو اسے اس کی ’قیمت‘ ادا کرنا پڑے گا۔ گزشتہ روز تاج ہوٹل کا محاصرہ ختم ہونے کے بعد سکیورٹی حلقوں میں یہ سوال اٹھنا شروع ہو گیا ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے ان حملوں کو کیوں نہ روک سکے۔ دِلی کے انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ مینیجمنٹ سے منسلک دہشت گردی کے امور کے ماہر ڈاکٹر اجے ساہنی نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی حکومت نے نیشنل سکیورٹی گارڈز کی تعیناتی میں بہت دیر کی۔ انہوں نے کہا کہ ’اکیسویں صدی کے اس قہر‘ سے نپٹنے کے لیے آپریشن کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔ تاہم ریاسٹ مہاراشٹر کی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ممبئی حملوں کے موقع پر انتہائی بروقت ردِ عمل دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی آپریشن کو منظم ہونا تھا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو کئی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا۔
|
اسی بارے میں ممبئی میں حملے اور پاکستان کافریدکوٹ30 November, 2008 | پاکستان ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا ہیمنت کر کرے کون تھے29 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||