’کارروائی میں تاخیر نہیں ہوئی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں نیشنل سکیورٹی گارڈ یعنی این ایس جی کا کہنا ہے کہ ممبئی میں شدت پسند حملوں کے خلاف کی گئی کارروائی میں کوئی دیری نہيں ہوئی ہے اور شدت پسندوں کی جانب سے کوئی مطالبہ نہيں کیا گیا تھا۔ این ایس جی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اس طرح کے الزامات عائد کیے جا رہے ہيں کہ این ایس جی نے اپنی کارروائی تاخیر سے شروع کی تھی۔ این ایس جی کے چیف جے کے دت نے دلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہ ممبئی میں شدت پسندوں کو مکمل طور پر تربیت حاصل تھی۔’انہیں تاج محل ہوٹل کے لے آؤٹ کے بارے میں پوری جانکاری تھی، وہ بغیر کسی غلطی کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہے تھے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ این ایس جی کو بھی ہوٹل کے لے آؤٹ کی کاپی مل گئی تھی لیکن ان کے لوگ شدت پسندوں کی طرح ہوٹل کے لےآؤٹ سے پہلے سے واقف نہيں تھے۔ جے کے دت کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں اس لیے پریشانی ہو رہی تھی کیونکہ تاج، ناریمن اور اوبرائے تینوں مقامات پر کمروں میں آگ لگی ہوئی تھی اور وہاں بڑی تعداد میں عام لوگ یا تو یرغمال تھے یا پھر پھنسے ہوئے تھے، اور این ایس جی پر یہ بھی دباؤ تھا کہ ان کی کارروائی میں معصوم لوگ نہ مارے جائيں۔ انہوں نے بتایا کہ این ایس جی کی کارروائی میں کسی عام لوگوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی خبر نہيں ہے اور بیشتر افراد کی موت شدت پسندوں کی اندھا دھند فائرنگ اور دھماکوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شدت پسندوں نے کارروائی کے دوران دستی بم پھینکے، دھماکے کیے اور فائرنگ کی۔ جے کے دت کا کہنا تھا کہ تینوں مقامات پر فائرنگ، دستی بم اور دھماکے ایک جیسے تھے۔ |
اسی بارے میں ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا ہیمنت کر کرے کون تھے29 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||