’بس اب بہت ہو گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھبیس نومبر کو ممبئی پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت میں گیٹ وے آف انڈیا کے سامنے احتجاجی مظاہرہ میں مظاہرین نے ’بس اب بہت ہو چکا‘ کے نعرے بلند کیئے۔ ان بم دھماکوں کی مذمت میں ہوئے مظاہرین میں پہلی مرتبہ شہر کے امراء اور رؤسا کی ایک بڑی تعداد بھی دیکھی گئی۔ ہوٹل تاج پیلس اور ہوٹل ٹرائیڈینٹ جب دوبارہ کھلے تو ایک شاندار پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر مہاراشٹر کے وزیر اعلی اشوک چوان بھی موجود تھے۔ ان حملوں پر چھترپتی شیواجی ٹرمنس سینٹرل ریلوے پر بھی کئی غریب بے گناہ اور معصوم لوگوں مارے گئے تھے لیکن نہ تو کوئی سٹیشن کے باہر ایسا کوئی مظاہرہ ہوا اور نہ ہی ان حملوں میں مارے جانے والوں کو کسی طرح کا خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
اتنی اموات اور تباہی کے بعد سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن سے خون صاف کر دیا گیا اور دوسرے روز زندگی اسی طرح معمول پر دوڑتی رہی۔ اگر کسی نے اس جگہ پر معصوم مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کرنے کی کوشش کی تو وہ تھے ’مسلمز فار سیکولر ڈیموکریسی‘ جمیعتہ علماء ہند، آواز نسواں اور جماعت اسلامی کے نمائندے۔ مسلمز فار سیکولر ڈیموکریسی کے رکن اختر، جاوید آنند ، صحافی اور نغمہ نگار حسن کمال ، بالی وڈ اداکار فاروق شیخ اور جاوید جعفری کے ہمراہ ان کے ہم خیال افراد نے سات دسمبر کے روز پہلے سی ایس ٹی کے سامنے پُر امن مارچ کیا۔ ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ اس تفاوت پر جاوید آنند کا کہنا تھا کہ ’یہ ہماری بدقسمتی ہے۔‘ لوگ عام آدمی کو بھول گئے۔ پورے میڈیا نے بھی اپنی خبروں میں ہوٹل تاج ہوٹل اوبیرائے اور ٹرائیڈینٹ ہوٹل ناریمان ہاؤس کو اہمیت دی لیکن کسی نے بھی سی ایس ٹی میں مارے گئے افراد کو اپنی خبروں میں جگہ نہیں دی۔ آنند کے مطابق حملے کے ایک ماہ پورے ہونے پر ان کی تنظیم کے ساتھ شبانہ اعظمی، تیستا سیتلواد اور کئی افراد نے سی ایس ٹی پر ایک بار پھر پر امن مارچ کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن پولیس نے انہیں یہ کہتے ہوئے اجازت نہیں دی کہ جمعہ ہونے کی وجہ سے وہ بھیڑ کو قابو نہیں کر سکتے۔ صحافی اور نغمہ نگار حسن کمال کا کہنا تھا کہ ممبئی ہمیشہ سے دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتا آیا ہے۔ لیکن کبھی اتنا ہنگامہ نہیں ہوا کیونکہ ہمیشہ عام آدمی مارا جاتا رہا اور اس مرتبہ امیر ان کا نشانہ بنے۔ اگر یہی حملہ مچھی مار کالونی میں ہوا ہوتا تو یہی ہوٹل نئے سال کا جشن مناتے اور یہاں نئے سال کی پارٹی بھی ہو رہی ہوتی لیکن اب تصویر کا رخ پلٹ گیا ہے۔امراء کی اموات سے حکومت سہم گئی ہے۔اسے تجارت اور سیاحوں کی صورت میں غیر ملکی کرنسی کی فکر لاحق ہے۔ آواز نسواں نامی تنظیم کی صدر حسینہ خان کے مطابق جب بھی ممبئی پر حملہ ہوا غریب اور متوسط طبقہ مارا گیا۔ لوگ چیختے رہے کہ یہ سب بند ہونا چاہئے لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ وہ صرف کھوکھلے وعدے کرتی رہی۔ گیارہ جولائی کے ٹرین دھماکوں میں ایک سو اسی سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سن بانوے ترانوے کے فسادات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔انیس سو ترانوے بم دھماکوں میں سینکڑوں موت کے گھاٹ اتر گئے حکومت کی روش نہیں بدلی لیکن اب اس مرتبہ آخر ایسا کیا ہوا کہ اب حکومت بھی کہنے پر مجبور ہوئی کہ ’ بس اب بہت ہو گیا‘۔
البتہ جاوید آنند اس کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایسا ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ دہشت گردوں نے ساٹھ گھنٹوں سے زیادہ پورے ملک کو ایک طرح سے یرغمال بنا کر رکھ لیا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کے ساتھ ممبئی شہری بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’بس اب بہت ہو گیا۔‘ | اسی بارے میں تاج اور ٹرائیڈینٹ-اوبیروئے آج کھل رہے ہیں21 December, 2008 | انڈیا ’جنگ نہیں کارروائی چاہیے‘23 December, 2008 | انڈیا اجمل قصاب کا ایک اور ریمانڈ23 December, 2008 | انڈیا ’کرکرے کی موت سازش نہیں تھی‘23 December, 2008 | انڈیا اسلام آباد کارروائی کرے: مکھرجی 21 December, 2008 | انڈیا قصاب کا خط پاکستان کے حوالے22 December, 2008 | انڈیا دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||