اسلام آباد کارروائی کرے: مکھرجی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب انکار کرنے کے بجائے ممبئی حملوں میں ملوث شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے۔ وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نےکولکتہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو کئی بار ثبوت فراہم کیے گئے ہیں۔’پاکستان متضاد بیانات دیتا رہا ہے، اسے کافی ثبوت دیے جاچکے ہیں اور اب متضاد بیانات اور انکار کرنے کے بجائے اسلام آباد کو کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔‘ پرنب مکھرجی نے کہا کہ پہلی بات تو یہ کہ پاکستان اپنا وہ وعدہ پورا کرے جس میں اس نے اپنی سر زمین کو دہشتگردی کے لیے استمعال نا ہونے کا وعدہ کیا ہے۔
گزشتہ روز ہی پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ اگر پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے میں نا کام رہا تو بھارت اپنے مفاد کے لیے ہر طرح کے آپشن پر غور کرنے پر مجبور ہوگا۔ بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نےممبئی پر حملوں کے بعد دوسری بار پاکستان کے سلسلے میں سبھی راستے کھلے رکھنے کی بات کہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے اپنے پڑوسیوں سے بار بار درخواست کی کہ وہ دہشتگردانہ سرگرمیوں کی امداد نہ کریں اور دہشتگردی کے ڈھانچے کو ختم کریں لیکن وعدے کے باوجود اس پر عمل نہیں ہوا۔ نئی دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجیو سریواستو کا کہنا ہے کہ پرنب مکھرجی کے تازہ بیان کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ممبئی میں حملے ملک میں چند برسوں سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کی کڑی ہیں جس کے بارے میں عوام جاننا چاہتے ہیں کہ آخر حکومت ایسے حملے روکنے کے لیے کیا کرسکتی ہے۔ سنجیو سریواستو کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت اس وقت کافی عوامی دباؤ میں اس لیے بھی ہے کہ آئندہ سال کے وسط میں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور حکومت اپپنے آپ کو کمزور بھی نہیں دکھانا چاہتی ہے، اور نہ ہی جلدی بازی میں کوئی اڈونچرِزم کرنے کے حق میں ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ شاید بھارتی حکومت پاکستان پر ایک سنجیدہ کوشش کے تحت گزشتہ چند دنوں سے دباؤ برھا رہی ہے اور عوام کی نظر میں ایسا نہیں دکھائی دینا چاہتی کہ وہ صرف گرجنے والے بادل ہیں جو کبھی برستے نہیں۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ کچھ مقامات پر حملے کرنے کی سوچ سکتی ہے یا صرف پاکستان سے ان افراد کی حوالگی چاہتی ہے جن کی فہرست حکومتِ پاکستان کو دی گئی ہے۔ | اسی بارے میں ’سبھی راستے کھلے رکھنے کا حق‘20 December, 2008 | انڈیا انڈیا: فوجی، سیاسی قیادت کا اجلاس20 December, 2008 | انڈیا سرینگر : چناؤ سے قبل تناؤ19 December, 2008 | انڈیا بھارت کے قانون پر ایمنسٹی کی تشویش19 December, 2008 | انڈیا انتولے: مستعفی ہونے کی پیشکش19 December, 2008 | انڈیا مسعود اظہر ملک میں نہیں: پاکستان18 December, 2008 | انڈیا پہلے کارروائی پھر بہتر تعلقات: انڈیا16 December, 2008 | انڈیا براؤن اچانک انڈیا کے دورے پر 13 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||